
میں نے حکومتِ پاکستان کی ”اپنی چھت اپنا گھر اسکیم“ کے تحت گھر کی تعمیر کے لیے قرض حاصل کیا تھا۔ حکومتی پالیسی کے مطابق یہ قرض بلا سود تھا، اور مبلغ 15,00,000 روپے مجھے Akhuwat Microfinance کے ذریعے فراہم کیا گیا۔ اب قرض کی واپسی کی اقساط شروع ہو چکی ہیں اور اصل رقم واپس کی جا رہی ہے۔ تاہم ادارہ ہر قسط کے ساتھ 45 روپے اضافی وصول کر رہا ہے، جسے وہ ”بینک چارجز“ کا نام دیتے ہیں۔ ہمارے علم کے مطابق عام طور پر بینک ڈپازٹ پر اس نوعیت کا چارج عائد نہیں کرتے، اس لیے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ رقم شرعاً جائز ہے یا نہیں۔ براہِ کرم درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
1. کیا اصل قرض کی واپسی کے ساتھ اس نوعیت کا اضافی چارج لینا شرعاً درست ہے؟
2. اگر یہ واقعی بینک سروس چارج ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
3. اگر یہ چارج سود کے زمرے میں آتا ہو تو اس صورت میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
1 -2.واضح رہے کہ قرض پرمشروط زیادتی جس نام سےبھی ہو (چاہےہدیہ کےنام سےہو، چاہےچارجز کے نام سے ہو) شرعاً سود کہلاتی ہے، اور اور سود تھوڑی مقدار میں ہو یا زیادہ، بہرصورت حرام ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ حکومتی ادارے کے لیے بینک چارجز کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں۔
3-سائل یک مشت فوری طور پر قرضہ چکانے کی کوشش کرے، تاکہ سودی معاملہ سے جلد از جلد نجات حاصل کیا جاسکے۔
ارشادِربّانی ہے:
"[وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا] " (سورۃ البقرۃ، الآیة:275)
ترجمہ:”اوراللہ نےبیع کوجائزقرار دیااورسود کوحرام قراردیا۔“
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء."
(کتاب البیوع، باب لعن آكل الربا ومؤكله، 50/5، ط:دار الطباعة العامرة)
ترجمہ:”حضرت جابررضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ اللہ کےرسول ﷺ نےسودکھانےوالے، کھلانےوالے، سودی معاملہ(ایگریمنٹ)لکھنےوالےاوراس پرگواہ بننےوالےپرلعنت فرمائی، اورآپ ﷺ نےیہ بھی فرمایاکہ یہ سب گناہ میں برابرہیں۔“
اعلاء السنن میں ہے:
"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".
(14/513، باب کل قرض جرّ منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارۃ القرآن)
۴-فتح القدیرمیں ہے:
"لأنه صلى الله عليه وسلم نهى عن قرض جر نفعا، رواه الحارث بن أبي أسامة في مسنده عن حفص بن حمزة، أنبأنا سوار بن مصعب عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «كل قرض جر نفعافهو ربا."
(كتاب الحوالة، 250/7، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101378
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن