بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 محرم 1448ھ 17 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی چھت اپنا گھر نامی اسکیم کے تحت قرضہ لینے کا حکم


سوال

حکومت پنجاب نے" اپنی چھت اپنا گھر" نامی اسکیم کا اجراءکیا ہے، اس اسکیم کے تحت حکومت 15 لاکھ روپے بلا سود قرضہ دے رہی ہے، جبکہ وزیراعلی پنجاب نے اپنے اسمبلی کے خطاب کے دوران اس بات کا اعلان کیا ہے کہ مذکورہ 15 لاکھ روپے کا سود حکومت خود ادا کرے گی، ان کا یہ خطاب یوٹیوب پر موجود ہے، اس قرضہ کی اقساط بینک آف پنجاب میں جمع ہوں گی، براہ کرم اس بارے میں راہ نمائی فرمائے کہ اس قرضے کی شرعی حیثیت کیا ہے، اگر یہ قرضہ حرام ہے تو جو لوگ یہ قرضہ لے چکے ہیں اب انہیں کیا کرنا چاہیے؟

اقرار نامہ برائے قرض

Affidavit for Loan

میں مسجد میں بیٹھ کر اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ:

1- مجھے حکومت پنجاب کے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت ۔۔۔۔۔۔لاکھ روپے کا قرض مل گیا ہے جس کی ماہانہ قسط۔۔۔۔۔ روپے ہے۔

2-  مجھے حکومت پنجاب کے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں اور مجھے یہ قرض کی رقم غیر سیاسی، غیر مذہبی، غیر گروہی اور غیر انسانی بنیادوں پر صرف میرے استحقاق اور ضرورت کی بنیاد پر ادارہ اخوت اسلامک مائیکرو فائنانس کے ذریعے حکومت پنجاب کی طرف سے دیا گیا ہے۔

3-میں نے اس پروگرام اور ادارہ اخوت اسلامک مائیکرو فائنانس کے اصولوں اور طریقہ کار کو خوب اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور یہ قرض کی سہولت انہی اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق وصول کی ہے اور انہی اصولوں کے مطابق قرض کے تحت واجب الادا رقوم عین وقت پر ادا کروں گا /گی۔ مجھے علم ہے کہ کوئی سرکاری، غیر سرکاری یا حکومتی ادارہ اس قرض کے تحت واجب الادا رقوم کو معاف نہیں کر سکتا۔

4- مجھے منظور شدہ قرض کی رقم قسطوں میں دی جائیگی۔ قرض کی بقیہ رقم پہلے سے جاری شدہ قسط سے کئے گئے اخراجات کی تفصیل اخوت کی متعلقہ برانچ میں جمع کروانے اور اخوت کے اسٹاف کی تصدیق کے بعد جاری کی جائے گی ۔ اگر میری جانب سے بتائے اور کئے گئے اخراجات کی تفصیل / ثبوت تسلی بخش نہ ہوئے تو ادارہ بقیہ رقم جاری نہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

5-میں قرض کی رقم یا اس کا کچھ حصہ کسی بھی صورت یا کسی بھی مد میں کسی اور کو نہیں دوں گا / گی اور نہ ہی اسے غلط استعمال کروں گا / گی۔ میں بھر پور کوشش کروں گا/ گی، کہ میں بینک میں خود جا کر قرض کے تحت واجب الادا رقوم ادا کروں اور میں نے اس قرض کے حصول کے لیے ادارہ اخوت کے نمائندہ یا کسی اور شخص کو کوئی حصہ ، کمیشن ، انعام یارشوت نہیں دی اور نہ ہی دوں گا / گی۔

6- اخوت اسلامک مائیکرو فائنانس کی جانب سے مجھے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ مجھے دی جانے والی قرض کی واپسی پر پہلے تین مہینوں کا گریس پیریڈ دیا گیا ہے۔ تاہم میں اپنی مرضی سے پہلے تین مہینوں کے دوران اقساط ادا کر سکتا / سکتی ہوں۔

7-میں مذکورہ جگہ تعمیر گھر (پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔کا/ کی قانونی وارث/مالک ہوں اور اس کے علاوہ کوئی بھی گھر میری ذاتی ملکیت میں نہیں ہے۔

8- میں اپنی زمین / پلاٹ بنام اخوت اسلامک مائیکرو فائنانس رہن کروانے کا پابند ہوں گا / گی اور اس سے متعلقہ تمام تر اخراجات خود برداشت کروں گا /گی۔

9-مذکورہ پلاٹ پر کسی بھی طرح کی غیر قانونی نا جائز / ناقص تعمیر کی تمام تر ذمہ داری مجھ پر ہوگی۔ ادارہ اخوت اسلامک مائیکرو فنانس کا کام صرف قرض کی سہولت دیتا ہے۔ میں اپنا گھر بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق تعمیر کروں گا /گی ۔ نقشہ کی منظوری اور تعمیر کی تمام تر ذمہ داریاں مجھ پر ہیں۔

10- اپنے گھر کی تعمیر کے لیے میرے پاس اس قرض کی رقم کے علاوہ اتنی رقم دستیاب ہے جس سے میں اپنے گھر کی تعمیر عمل کروں گا /گی اور اس میں خود ر ہائش اختیار کروں گا گی۔

11- اخوت اسلامک مائیکرو فائنانس کی جانب سے مجھے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ مجھے دی جانے والی قرض کی رقم پر اس وقت کوئی ٹیکس، سر دس چار جز، رینٹ ، پرافٹ یا دیگر چار جز عائد نہیں ہے۔ البتہ مستقبل میں اگر کوئی ٹیکس، سروس چار جز،رینٹ، پرافٹ یا دیگر چار جز حکومت کی طرف سے لاگو کیے گئے تو میں ان کو ادا کرنے کا پابند ہوں گا /گی۔ اور مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

12- قرض کے تحت واجب الادا رقوم کی مکمل ادائیگی تک میں مذکورہ مکان کو فروخت / انتقال نہیں کروں گا / گی۔

13- میں اس بات کی اجازت دیتا / دیتی ہوں کہ قرض کے تحت واجب الادا رقوم ادا نہ کرنے کی صورت میں ادارہ مذکورہ جائیداد کو فروخت کر کے اپنی رقم وصول کر سکتا ہے۔

14- میں کسی بھی مالیاتی ادارے یا حکومت کی کسی اور قرضہ / فائنانسنگ اسکیم کا / کی نادہندہ نہیں ہوں۔

15- میں یہ اجازت دیتا / ویتی ہوں کہ میری طرف سے فراہم کردہ معلومات حکومت یا کسی بھی ادارے کو ریسرچ کے لیے فراہم کی جاسکتی ہیں۔

16- تعمیر کے دوران اور تعمیر کے بعد میری غفلت یا کوتاہی کی وجہ سے گھر کو ہونے والے کسی بھی طرح کے نقصان کی تمام تر ذمہ داری مجھ پر ہو گی۔

17- اگر میرا نام حکومت کی جانب سے جاری شدہ کسی بھی ممنوعہ افراد کی فہرست میں آتا ہے تو ادار ہ اخوت قرض کی واجب الادار قم فوری طور پر یکمشت واپس لینے کا مجاز ہو گا اور میں قرض کی واجب الادار قم فوری طور پر واپس کرنے کا پابند ہوں گا/ گی۔

18- میری وفات یا مستقل معذوری کی صورت میں اگر میرے ذمے قرض کے تحت واجب الادا رقم باقی ہو تو میرا وارث نام بمعہ (ولدیت/زوجیت،شاختی کارڈ،ساکن،اس قرض کے تحت واجب الادا رقم کو واپس کرنے کا پابند ہو گا/ گی۔

جواب

سائل کی طرف سے فراہم کردہ اقرار نامہ برائےقرض کے فارم میں ذکر کردہ اٹھارہ شرائط کا شرعی جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بعض شرائط قرض کی غرض و غایت کو صحیح مصرف میں لانے کے لیے رکھی گئی ہیں، جبکہ بعض شرائط قرض کی واپسی کو محفوظ بنانے کے لیے ہیں،لیکن اس میں سے "شرط نمبر 8،شرط نمبر11،اور  حکومتِ پنجاب کا  مذکورہ قرض کی سود  اپنی طرف سے ادا کرنے"کی وجہ سے " اپنی چھت،اپنا گھر" نامی اسکیم کے تحت قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔

البتہ اگرشرط نمبر 8 میں حکومت گھر کے بجائےاس کے کاغذات اپنے پاس بطور سکورٹی کےرکھے، شرط نمبر 11 میں اگر حکومت اس قرض پر کسی قسم کا ٹیکس، سروس چارج یا کوئی اضافی مالی بوجھ عائد نہ کرے، اور حکومتِ پنجاب مذکورہ قرض کی سود ادا نہ کرےتو ایسی صورت میں مذکورہ اسکیم سے فائدہ اٹھانا شرعاً جائز  ہوگا۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم، قال ابن جرير : الإثم ترك ما أمر الله بفعله والعدوان مجاوزة ما حد الله لكم في دينكم ومجاوزة ما فرض الله عليكم في أنفسكم وفي غيركم."

(سورة المائدة، الآية:2، ج:3، ص:10، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) فيها (القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شيء آخر..... وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه،وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام .

‌‌(مطلب ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام) (قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."

(‌‌باب المرابحة والتولية،‌‌فصل في القرض،ج5،ص166،ط سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں