
اگر ایک مسلمان شخص زندہ ہو، اس کے تین بیٹۓ اور ایک بیٹی ہو، تو کیا وہ زندگی میں اپنی جائیداد کو وراثت کے قانون کے مطابق تقسیم کرسکتا ہے؟
اگر زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کی جائے تو اس پر وراثت کے احکام لاگو نہیں ہوتے، لہذا زندگی میں تقسیم کرتے ہوئے وراثت کے قانون کے مطابق تقسیم کرنا درست نہیں ہوگا،بلکہ اس پر ہبہ کے احکام لاگو ہوتے ہیں اور ہبہ میں شرعی حکم یہ ہے کہ تمام اولاد(بیٹے،بیٹیوں)میں برابری کی جائے یعنی جتنا حصہ ایک بیٹے کو دیا جائےاتنا ہی بیٹی کو دینا ضروری ہے، کسی شرعی وجہ کے بغیر کمی پیشی کے ساتھ تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين."
(کتاب الھبة ج:7/ص:288/ ط:دارالکتب الاسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و لو وهب رجل شيئًا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."
(کتاب الھبة ،ج:4/ص:391/ ط:رشیدیہ)
مشکاۃالمصابیح میں ہے:
"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية: أنه قال: «أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟» قال: بلى قال: «فلا إذن» . وفي رواية:،،،إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟» قال: لا قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم» .قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: لا أشهد على جور."
(فی باب تحت باب العطایا،ج:2 /ص909/ط: المكتب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101834
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن