
میری والدہ نے میرے چچا کے بیٹے کو دودھ پلایا ہے، اس وقت اس کی عمر ایک سال تھی، اس وقت میری بہن پیدا ہوئی ،وہ چھ ماہ کی تھی، اب میرے چچا اپنے دوسرے بڑےبیٹے کے لیےمیری اس بہن کا رشتہ مانگ رہے ہیں جس بیٹے نے میری والدہ کا دودھ نہیں پیا ہے،اب آیا میری اس بہن کا رشتہ میرے چچا کے بڑے بیٹے سے جائز ہے، جب کہ چچا کے چھوٹے بیٹے نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب آپ کی والدہ نے آپ کے چچا کے بیٹےکوجب اس کی عمر ایک سال تھی دودھ پلایا ،تو وہی صرف آپ کا رضاعی بھائی ہوا، اس کا آپ کی بہنوں سے نکاح درست نہیں، لیکن اس چچا کے دوسرے بیٹے نے چوں کہ آپ کی والدہ کا دودھ نہیں پیا تو وہ آپ کا رضاعی بھائی نہیں ہوا،لہٰذا آپ کےچچا کا اپنے اس دوسرے بڑے بیٹے کےلیے آپ کی بہن کا ہاتھ مانگنا درست ہے ،اور دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي."
(كتاب الرضاع، ج:1، ص:343، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101016
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن