
ایک عورت اپنا اسکول چلاتی ہے،صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے وہ اپنے مال کی زکات نکالتی ہے،ڈیڑھ دو لاکھ کے قریب قریب، وہ زکات کی رقم اسکول میں پڑھنے والے مستحق بچوں پر خرچ کرتی ہے،فیس اور کتابوں کی مد میں۔
آیا اس طرح زکات اداکرنے سے زکات ادا ہوجاۓگی؟
صورت مسئولہ میں اسکول میں پڑھنے والے طلبہ اگر بالغ و مستحق زکات ہوں یعنی ان کی ملکیت میں ان کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم نہ ہو اور نہ ہی اس قدر ضرورت سے زائد سامان ہو کہ جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہے اور نہ ہی وہ سید ، ہاشمی ہوں،یا اگر پڑھنے والے طلبہ نابالغ ہوں تو ان کے والد مستحق زکات ہوں تو زکات کی رقم کا ان کو مالک بناکر دے کر، ان سے ماہانہ فیس وصول کرنا جائز ہوگا، اسی طرح مستحق طلبہ کو زکات مد میں کتابیں بھی دی جا سکتی ہیں، البتہ مستحق طلبہ اور ان کے والد سے اجازت لیے بغیر زکات کی رقم اگر خود ہی اسکول میں جمع کرا دی جاۓ تو اس سے زکات ادا نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني."
(کتاب الزکاۃ،باب مصرف الزکاۃوالعشر،ج:2،ص: 344،ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز."
"(قوله: إلى صبيان أقاربه) أي العقلاء وإلا فلايصح إلا بالدفع إلى ولي الصغير."
(کتاب الزکاۃ،باب مصرف الزكاة والعشر،ج:2،ص:356،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100247
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن