بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے بھائی کو زکات دینے کا حکم


سوال

دو بھائی ہیں ایک گھر میں رہتے ہیں ۔ دونوں کا منافع اور نقصان الگ الگ ہے۔ دونوں کے بچے ہیں اور اسکول میں پڑھتے ہیں ۔ دونوں نے گندم کی فصل زمین سے لی  ہے، اب  گندم کی زکات  ایک بھائی دوسرے بھائی کو دے سکتا ہے یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے زمینی پیداوار پر عشریا نصف عشر جو لازم کیا ہےاس کا تعلق زراعت کرنے والے افراد سے ہے، اور عشر / نصف عشر کا حقدار وہی ہوتا ہے، جو مستحق زکات ہو۔

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ دونوں بھائیوں پر اپنی اپنی فصل کا عشر یا نصف عشر ادا کرنا لازم ہے، مسئولہ صورت میں دونوں افراد چوں کہ اپنی اپنی فصل کے مالک ہیں، لہذا ان دونوں کے لیےایک دوسرے کو اپنی اپنی فصل کا عشر یا نصف عشر دینے کی اجازت نہیں ہوگی،  الا یہ کہ دونوں میں سے کوئی ایک اتنا مقروض ہو کہ فصل کی قیمت سے قرضہ ادا کرنے کی صورت میں اس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی نقدی، سونا چاندی یا مال تجارت نہ بچتا ہو، تو اس صورت میں ایک بھائی کے لیے اپنے مستحق بھائی کو عشر یا نصف عشر دینا جائز ہوگا، بشرطیکہ وہ سید، علوی، عباسی، ہاشمی نہ ہو۔ 

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله."

(كتاب الزكوة، الباب الاول في تفسير الزكوة، ج: 1، ص: 188، ط: دارالکتب العلمیة)

النتف فی الفتاوی میں ہے: 

"واما التي في المال احدها النصاب الكامل ونصاب الذهب عشرون مثقالا ونصاب الفضة مائتا درهم ونصاب متاع التجارة اذا بلغ قيمته مائتي درهم."

(کتاب الزکوۃ، شروطھا فی المال، ج: 1، ص: 167، ط: مؤسسة الرسالة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں