بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نسب نامہ نہ ہونے کی صورت میں محض شہرت کی وجہ سےاپنے اپ کو انصاری کہنے کا حکم


سوال

میں انصاری ہوں، میری ذات/برادری انصاری کہلاتی ہے، لیکن میرے پاس کوئی نسب نامہ موجود نہیں ہے اور میرے والد کو بھی نسب نامہ کے بارے میں معلوم نہیں اور نہ ہی انہیں پورا نسب یاد ہے۔ ایسی صورت میں کیا میں اپنے نام کے ساتھ “انصاری” لکھ سکتا ہوں اور خود کو انصاری کہہ سکتا ہوں؟ کیا یہ اس حدیث کے خلاف تو نہیں ہوگا جس میں آیا ہے کہ: “جس نے جان بوجھ کر اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کی تو اس پر جنت حرام ہے”؟ کیونکہ مجھے یقین کے ساتھ معلوم نہیں کہ ہمارا نسب واقعی مدینہ کے انصار سے ملتا ہے یا نہیں، بس صرف مشہور ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کے علاقے اور خاندان میں “انصاری” بطور برادری یا خاندانی لقب مشہور ہے، تو اس  شہرت کی بنیاد پر  آپ اپنے نام کے ساتھ انصاری  استعمال کرسکتے ہیں؛ کیونکہ یہاں مقصد کسی دوسرے باپ یا خاندان کی جھوٹی نسبت قائم کرنا نہیں بلکہ معروف خاندانی شناخت ظاہر کرنا ہے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"قال: (ولايجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه إلا النسب.

(قوله: ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه) أي لم يقطع به من جهة المعاينة بالعين أو السماع إلا في النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القاضي فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأمور إذا أخبره بها من يثق به من رجلين عدلين أو رجل وامرأتين، ... وفي الفصول عن شهادات المحيط: في النسب أن يسمع أنه فلان بن فلان من جماعة لايتصور تواطؤهم على الكذب عند أبي حنيفة، وعندهما إذا أخبره عدلان أنه ابن فلان تحل الشهادة، وأبو بكر الإسكاف كان يفتي بقولهما، وهو اختيار النسفي".

(كتاب الشهادات، ج:7، ص:388، ط: دار الفكر)

فقط والله اعلم 


فتویٰ نمبر : 144708102343

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں