بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے مشترکہ کاروبار کا مشترکہ مال دوسرے مشترکہ کاروبار کے شریک کو بیچنے اور دونوں کاروبار سے نفع لینے کا حکم


سوال

میں اور میرا دوست بطور شرکت ایک کاروبار کرتے ہیں اور باہر ملک سے سامان منگواتے ہیں اور ہم دونوں کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ اس سامان کو نفع کے ساتھ کسی کو بھی بیچ دیں اور نفع ہم دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوجاتا ہے، اب میں اپنے بھائی کے ساتھ بھی بطور شرکت کاروبار کرتا ہوں، تو  میں یہ شرکت والا سامان اپنے بھائی کو نفع کے ساتھ بیچ دیتا ہوں اور پھر میرا بھائی بھی اس سامان کو نفع کے ساتھ آگے کسی دوسرے پر بیچ دیتا ہے اور جو نفع ہوتا ہے اس میں بھی بھائی کے ساتھ میں شریک ہوتا ہوں، یعنی میں دوست کے ساتھ بھی نفع میں شریک ہوتا ہوں اور بھائی کے ساتھ بھی نفع میں شریک ہوتا ہوں، کیا میرے لیے اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ آپ اپنے بھائی کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو اور بھائی جو بھی خریداری کرتا ہے وہ اس میں آپ کی طرف سے وکیل بھی ہوتا ہے، اس لیے آپ کے لیے دوست کے ساتھ مشترکہ کاروبار والا مال بھائی کو بیچنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ شرعا آپ اپنے وکیل کو مال نہیں بیچ سکتے ہیں، اس لیے کہ اپنے وکیل کو مال بیچنے کی صورت میں گویا آپ خود ہی بائع بھی ہو اور خود ہی خریدار بھی ہو یعنی ایک ہی شخص کا فروخت کنندہ اور خریدنے والا بننا لازم آرہا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"لا يعقد وكيل البيع والشراء والإجارة والصرف والسلم ونحوها (مع من ترد شهادته له) للتهمة وجوزاه بمثل القيمة (إلا من عبده ومكاتبه إلا إذا أطلق له الموكل) كبع ممن شئت (فيجوز بيعه لهم بمثل القيمة) اتفاقا (كما يجوز عقده معهم بأكثر من القيمة) اتفاقا: أي بيعه لا شراؤه بأكثر منها اتفاقا، كما لو باع بأقل منها بغبن فاحش لا يجوز اتفاقا، وكذا بيسير عنده خلافا لهما ابن ملك وغيره.وفي السراج: لو صرح بهم جاز إجماعا إلا من نفسه وطفله وعبده غير المديون.

 (قوله: إلا من نفسه) وفي السراج: لو أمره بالبيع من هؤلاء فإنه يجوز إجماعا إلا أن يبيعه من نفسه أو ولده الصغير أو عبده ولا دين عليه فلا يجوز قطعا وإن صرح به الموكل اهـ منح. الوكيل بالبيع لا يملك شراءه لنفسه؛ لأن الواحد لا يكونمشتريا وبائعا فيبيعه من غيره ثم يشتريه منه، وإن أمره الموكل أن يبيعه من نفسه وأولاده الصغار أو ممن لا تقبل شهادته فباع منهم جاز بزازية كذا في البحر، ولا يخفى ما بينهما من المخالفة، وذكر مثل ما في السراج في النهاية عن المبسوط، ومثل ما في البزازية في الذخيرة عن الطحاوي، وكأن في المسألة قولين خلافا لمن ادعى أنه لا مخالفة بينهما."

(كتاب الوكالة،باب الوكالة بالبيع والشراء،فصل، ج:5،ص:521،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144707100650

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں