بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنا مال صدقہ جاریہ کے کاموں میں لگانے کا حکم


سوال

میری ایک خالہ ہیں، جو کہ غیر شادی شدہ ہیں، ان کے بھائی نہیں ہیں، ان کی چھ بہنیں ہیں وہ چاہتی ہیں ، اپنی مملوکہ تمام چیزیں،جائیداد، بینک بیلنس وغیرہ کا کچھ ایسا کیا جائے کہ وہ صدقہ جاریہ بن جائے، کہ ان کی وفات کے بعد وہ مستقل طور پر صدقہ جاریہ رہے، تو اس کے لیے وہ کیا کریں؟

جواب

 واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک  ومختار ہے، وہ اپنی جائیداد میں ہر جائز تصرف کرسکتا ہے،(اور  کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ مالک کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے)  لہذا سائل کی خالہ اگر اپنی زندگی میں اپنے لیے کوئی صدقہ جاریہ کا کام کرنا چاہتی ہیں، تو کر سکتی ہے، اس کے لیے مذکورہ خالہ کو چاہیے کہ  اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں رکھ لیں تا کہ بقیہ زندگی میں کام آئے، اور کسی کی محتاجی نہ ہو، اور اپنے ورثاء کے لیے بھی کچھ مناسب حصہ  چھوڑ دیں ، کیوں کہ ورثاء کو بالکل محروم کرنا بھی شرعاً جائز نہیں، اس کے بعد بقیہ مال کسی بھی صدقہ جاریہ میں لگا سکتی ہے، اور صدقہ جاریہ کی اقسام  بہت زیادہ ہیں: مثلاً: مسجد کی تعمیر، پانی کا کنواں کھدوانا ، درخت لگانا، قرآن کریم طبع کراکر تقسیم کرنا، علم نافع کی کتب وغیرہ تیار کروا کے تقسیم کرنا،ان میں سے جو صورت بھی ممکن ہو کر سکتی ہیں، البتہ سب سے بہتر جہاں مسجد کی ضرورت ہو مسجد بنوادیں،یہ ثواب دائمی نہ ختم ہونے والا ہے۔

درر الحکام میں ہے:

"‌كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

(المادۃ : 1192 ، ج : 3 ، ص : 201 ، ط : دار الجیل)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن مما يلحق المؤمن من عمله وحسناته بعد موته: علما علمه ونشره، وولدا صالحا تركه، أو مصحفا ورثه، أو مسحدا بناه، أو بيتا لابن السبيل بناه، أو نهرا أجراه، أو صدقة أخرجها من ماله في صحته وحياته، تلحقه من بعد موته."

(باب ثواب معلم الناس الخير،ص:100،رقم:242،ط:دار الصديق للنشر)

"ترجمہ:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (مومن کو موت کے بعد جن اعمال کا ثواب پہنچتا رہتا ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں: جو علم سکھایا اور پھیلایا، نیک اولاد جسے دنیا میں چھوڑ آیا، قرآن کریم کا نسخہ جو اس نے ترکے میں چھوڑا، یا مسجد بنائی، یا مسافر خانہ تعمیر کروایا، یا نہر جاری کروائی، یا اپنی صحت اور زندگی میں اپنے مال سے نکالا ہوا صدقہ، یہ سب اعمال مومن کی موت کے بعد مومن تک پہنچتے رہتے ہیں ۔"

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101521

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں