بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپارٹمنٹ اور بلڈنگ میں نماز کے لیے مختص جگہ میں امام مؤذن کا تقرر ، اعتکاف اور جمعہ کا حکم


سوال

 ہمارے پروجیکٹ میں پہلی منزل پر نماز کے لیے  جگہ ہے ، صورت حال یہ ہے کہ اس کے نیچے پارکنگ ایریا ہے اور اوپری منزل پر فلیٹ ہیں ، جس میں رہائش ہے، کیا یہاں پر پانچ وقت کی نماز   مع  جمعہ کی نماز با جماعت ادا کی جاسکتی ہے ؟امام اور مؤذن کا تقرر کیا جا سکتا ہے؟ کمیٹی بنائی جاسکتی ہے ، جب کہ مسجد میں منبر بھی موجود ہے، اگر یہ سب کر لیا جائے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا مذکورہ جگے کو مسجد کہہ سکتے ہیں یا مصلی ؟  کیا مسجد شرعی حکم میں داخل ہوگی یا نہیں ؟  اس مسجد میں تحیۃ المسجد پڑھنے کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ اس مسجد میں اعتکاف مسنون کا کیا حکم ہے؟ اس کا اجر ملے گا یا نہیں ؟

جواب

 صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ پراجیکٹ میں  جو پہلی منزل  پر نماز کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے اور اس سے اوپر فلیٹ اور نیچے پارکنگ ہیں تو  یہ جگہ  شرعی مسجد شمار نہیں ہوگی، بلکہ ”مصلّیٰ“ کہلائے گا، اس لیے  کہ   مسجدِ شرعی کے لیے یہ شرط ہے کہ  وہ تحت الثری ٰ (زمین کی نیچے تہہ) سےلےکر آسمان تک مسجد ہو ، اس کے اوپر اور نیچے مسجد کے علاوہ کوئی  تعمیر نہ ہو، لہذا اپارٹمنٹ میں بنی مسجد  جن  کے اوپر  فلیٹ  بنے ہوتے ہیں  وہ”  شرعی مسجد“ شمار نہیں ہوتیں،  البتہ یہاں نماز ادا کرنا، امام  اور مؤذن مقرر کرنا، اور انتظام چلانے کے  کمیٹی بنانا جائز  ہے، نیز  یہاں  نماز  باجماعت ادا کر نے  سے جماعت کی نماز کا ثواب  بھی  ملے گا، لیکن    مسجد شرعی   میں نماز پڑھنے کا جو ثواب ہے وہ اس میں نہیں ملے گا، اس لیے  اگر قریب میں جامع مسجد موجود ہو اور کوئی عذر نہ ہو تو  جامع مسجد جاکر نماز پڑھنے کو ترجیح دینا چاہیے۔  نیز اگر کبھی مذکورہ جگہوں میں نماز پڑھنے کی ضرورت پیش آجائے تو  وہاں جاکر موقع ہوتو تحیۃ المسجد بھی پڑھ لینی چاہیئے۔

باقی    ماہِ رمضان کے مسنون اعتکاف کے لیے چوں کہ  شرعی مسجد ہونا شرط ہے،  اس لیے اس اپارٹمنٹ میں بنی   مسجد میں  مسنون اعتکاف  کرنا درست نہیں ہوگا، نیز جمعہ کی ادائیگی  کے لیے اگرچہ   مسجد شرعی ہونا شرط نہیں ہے،لیکن جمعہ کا قیام شعائرِ دین میں سے ہے، اس میں مسلمانوں کی شوکت کا اظہار بھی ہے، مسلمانوں کا جتنا بڑا مجمع جمع ہوکر خشوع و خضوع سے عبادت کرتاہے اور دعا کرتاہے، اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں بھی قبول فرماتے ہیں اور اپنی رحمت بھی نازل فرماتے ہیں، شیطان اس سے مزید رسوا ہوتاہے، لہذا  جمعہ کی نماز جامع مسجد میں ادا کرنی چاہیے۔

یہ واضح رہے کہ  اگر بلڈر / مالک  اپارٹمنٹ  اور بلڈنگ میں   مذکورہ  جگہ مستقل نماز کے لیے ہی  مختص کردے اور اس کو وہ عارضی مصلیٰ نہ کہے،اور نہ ہی اس جگہ کو تبدیل کرنے کی کوئی نیت ہو   اور اس میں امام اور مؤذن مقرر کرکے جماعت  بھی شروع کروادےتو شرعا ً یہ جگہ  نماز کے لیے وقف ہوجائے گی ، اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہوگا، تاہم  اگر  بلڈر یہ جگہ مسجد کے لیے وقف نہ کرے بلکہ عارضی مصلیٰ یا  عارضی مسجد قرار دے  تو ایسی صورت میں یہ جگہ وقف  بھی نہیں ہوگی ، ایسی صورت میں اس کو تبدیل کرنا بھی جائز ہوگا۔

حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صلاة ‌الرجل ‌في ‌بيته ‌بصلاة ‌وصلاته ‌في ‌مسجد ‌القبائل ‌بخمس ‌وعشرين صلاة وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخسمائة صلاة وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة وصلاته في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة."

(مشکوٰۃ المصابیح، 1/ 234، کتاب الصلوٰۃ، باب المساجدومواضع الصلوٰۃ، الفصل الثالث، ط: المکتب الإسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويزول ملكه عن المسجد  والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه)  بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية.

(قوله: والمصلى) شمل مصلى الجنازة ومصلى العيد قال بعضهم: يكون مسجدا حتى إذا مات لا يورث عنه وقال بعضهم: هذا في مصلى الجنازة، أما مصلى العيد لا يكون مسجدا مطلقا، وإنما يعطى له حكم المسجد في صحة الاقتداء بالإمام، وإن كان منفصلا عن الصفوف وفيما سوى ذلك فليس له حكم المسجد، وقال بعضهم: يكون مسجدا حال أداء الصلاة لا غير وهو والجبانة سواء، ويجنب هذا المكان عما يجنب عنه المساجد احتياطا. اهـ. خانية وإسعاف والظاهر ترجيح الأول؛ لأنه في الخانية يقدم الأشهر (قوله بالفعل) أي بالصلاة فيه ففي شرح الملتقى إنه يصير مسجدا بلا خلاف، ثم قال عند قول الملتقى، وعند أبي يوسف يزول بمجرد القول ولم يرد أنه لا يزول بدونه لما عرفت أنه يزول بالفعل أيضا بلا خلاف اهـ. مطلب في أحكام المسجد قلت: وفي الذخيرة وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعة فإنه يصير مسجدا اهـ ويصح أن يراد بالفعل الإفراز، ويكون بيانا للشرط المتفق عليه عند الكل كما قدمناه من أن المسجد لو كان مشاعا لا يصح إجماعا وعليه فقوله عند الثاني مرتبط بقول المتن بقوله: جعلته مسجدا وليست الواو فيه بمعنى أو فافهم."

  (كتاب الوقف، 4 /  355، ط: سعيد)

 البحر الرائق میں ہے: 

"(قوله ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل بابه إلى الطريق وعزله أو اتخذ وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول فله بيعه ويورث عنه) لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به والسرداب بيت يتخذ تحت الأرض لغرض تبريد الماء وغيره كذا في فتح القدير وفي المصباح السرداب المكان الضيق يدخل فيه والجمع سراديب. اهـ.

وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]".

(كتاب الوقف، 5/ 271، ط: دار الکتاب الإسلامي)

حلبی کبیری میں ہے:

"وفي الفتاوی الغیاثیة: لوصلی الجمعة في قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرة  لها قری وفیها وال وحاکم جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم یبنوا … والمسجد الجامع لیس بشرط، ولهذا أجمعوا علی جوازها بالمصلی في فناء المصر."

(فصل في صلاة الجمعة، ص:551، ط: سہیل اکیڈمی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100958

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں