بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے بالوں کو گھر میں استعمال میں لانا جائز نہیں


سوال

بڑے شہروں میں خواتین کے ٹوٹے ہوئے بالوں کا مناسب انتظام ہو گیا ہے۔ دوسری طرف ان بالوں کی خرید و فروخت کا رجحان بھی عام ہو گیا ہے۔ جس کو لوگ آسان حل سمجھنے لگے ہیں۔ سائل یہ جاننا چاہتے ہے کہ کیا ان بالوں کا اپنے ہی گھر میں کوئی مصرف ہو سکتا ہے؟ جیسے تکیے میں بھر دینا! برائے مہربانی جواب سے ممنون فرمائیں۔ 

جواب

انسانی اعضاء بال وغیرہ کی تجارت یعنی خرید وفروخت کرنا یا اپنے کسی  استعمال میں لانا  ، ناجائز ہے۔لہذا عورت کے بالوں کو گھر میں تکیہ وغیرہ بھرنے کے لیے استعمال کرنا بھی جائز نہیں اور ان بالوں کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے ۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"حرم استعماله، حتى لو طحن عظمه في دقيق لم يؤكل في الأصح احتراما 

(قوله وإن حرم استعماله) أي استعمال جلده أو استعمال الآدمي بمعنى أجزائه وبه يظهر التفريع بعده (قوله احتراما) أي لا نجاسة."

(كتاب الطهارة، باب المياه، ج:1، ص:204، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں