بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

انجانے میں بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کا حکم


سوال

ایک شخص نے بینک اکاؤنٹ کھلوایا، اس کے علم ميں نہیں تھا کہ یہ سودی  اکاؤنٹ ہے یا غیر سودی، کرنٹ ہے یا سیونگ، کچھ عرصہ بعد جب اس نے اکاؤنٹ میں موجود رقم نکلوائی، تو اُسے اضافی رقم اس میں دی جارہی تھی، سوال یہ ہے کہ اس اضافی رقم کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس کا نفع لینا ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا بینک میں سیونگ اکاؤنٹ نہ کھلوایا جائے اور اگر غلطی سے سیونگ اکاؤنٹ کھلوالیا ہے، تو اسے بند کروادیں، ضرورت کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے، سیونگ اکاؤنٹ میں جو اضافی رقم آچکی ہے، وہ بغیر نیتِ ثواب فقراء و مساکین کو صدقہ کردیں۔

معارف السنن میں ہے:

"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء."

(ابواب الطهارة، ج:1، ص:95)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100017

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں