بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عنفہ اور عرشمان نام


سوال

بچی کا نام عنفہ نورالعین وحید یا عنفہ وحید اور بچے کا نام عرشمان رکھ سکتے ہیں؟

جواب

"عنفہ "نام عربی زبان کےلفظ "  العنف" سے ماخوذ ہے  ،جس کے معنی سختی اور شدت کے آتے ہیں ۔اور لفظ "عرشمان" عرش اور مان کا مجموعہ ہے،عرش: عربی  زبان کا لفظ ہے، اردو اور فارسی میں بھی مستعمل ہے، اس کے معنی : چھت، تخت، آسمان، آٹھواں آسمان وغیرہ کے آتے ہیں،مان : سنسکرت اور اردو  زبان کا لفظ ہے، اس کے معنی   : گھمنڈ، غرور، تکبر ، نخوت (2) عزت ، قدر، منزلت  (3) خاطر تواضع، آؤ بھگت کے آتے ہیں۔ (فیروزاللغات)

دونوں  لفظ ناموں کے لیے غیر مانوس اور معنی کے اعتبار سے اچھے نہیں ہیں ، اس لیے  ان  کے بجائے بچوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور صلحاء امت رحمہم اللہ کے ناموں پر یا کوئی  اچھے بامعنی نام  رکھنے چاہییں۔

مشکا ۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌تدعون ‌يوم ‌القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم» رواه أحمد وأبو داود."

(کتاب الا داب،باب الاسامی،ج3، ص1347، ط: المکتب الأسلامى۔ بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"التسمية باسم ‌لم ‌يذكره ‌الله ‌تعالى في عبادة ولا ذكره رسوله صلى الله عليه وسلم ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل."

(کتاب الحظر والاباحة،ج،6:ص 467:ط:ایچ ،ایم، سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101279

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں