بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

انگوٹھیوں کے استعمال، عورت کے علمی مباحثے، ٹک ٹاک، تصاویر اور غصے سے متعلق احکام


سوال

1۔کیا نقلی انگوٹھیاں پہننا حرام ہے؟ بعض طالبات کہتی ہیں کہ نماز کے وقت ایسی انگوٹھی پہننا منع ہے، جبکہ میں نے سنا ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ لوہا وغیرہ جہنم والوں کا زیور ہے۔ نیز اگر ایسی انگوٹھی پر سونے یا چاندی کی تہہ (پالش/پانی) چڑھا دی جائے تو کیا اس کا پہننا جائز ہوگا؟

2۔ اگر کسی مسئلے میں کسی شخص سے بحث ہو جائے اور وہ آپ کی شرعی دلیل بھی قبول نہ کرے، بلکہ یہ کہے کہ عورت کا علم مکمل نہیں ہوتا یا عورت ناقص العقل ہوتی ہے، تو کیا ایسی صورت میں لڑکیاں دلیل پیش کر سکتی ہیں؟

3۔ آج کل بہت سے گھروں میں ٹک ٹاک (TikTok) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس کے حرام ہونے سے متعلق کوئی فتویٰ موجود ہے؟ میں گھر والوں کو اس سے منع کرتی ہوں، لیکن وہ میری بات نہیں مانتے۔

4۔ جاندار کی تصویر بنانا اور بنوانا حرام ہے، اور اسی طرح البم کے لیے تصاویر نکلوانا بھی ناجائز بتایا جاتا ہے۔ کیا موبائل فون کے ذریعے تصویر لینا یا محفوظ کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے؟

5۔ غصے اور زبان درازی سے بچنے کا کیا علاج ہے؟

جواب

1۔عورت کے لیے سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی انگوٹھی استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ لوہے کی ایسی انگوٹھی جس پر سونا یا چاندی چڑھا دی گئی ہو، اس کا استعمال عورتوں کے لیے جائز ہے۔

2۔عورت کو علم کے حوالے سے مرد کے برابر مقام دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح احادیثِ مبارکہ کے باب میں ایک عادل و ضابط مرد کی روایت قبول ہوتی ہے، اسی طرح عورت کی روایت بھی قبول کی جاتی ہے۔ تاریخِ اسلام میں امہات المؤمنین، بالخصوص حضرت عائشہ اور حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے لے کر آج تک ہزاروں محدِّثات اور حدیثِ مبارک کی روایت کرنے والی معزز خواتین گزری ہیں، اور انہی کے ذریعے دین کا ایک معتدبہ حصہ ہم تک پہنچا ہے۔

اگر ان کا علم ناقص ہوتا تو ان کی روایت قبول نہ کی جاتی، یا کم از کم اس وقت تک قبول نہ کی جاتی جب تک اس کا کوئی متابع یا شاہد موجود نہ ہوتا، جبکہ جمہور ائمۂ محدثین و فقہاء میں سے کسی نے ایسی شرط عائد نہیں کی۔

البتہ جس روایت میں عورتوں کو "ناقصات العقل" کہا گیا ہے، اس کا تعلق شہادت کے باب سے ہے، یعنی عدالت میں بعض معاملات، خصوصاً مالی معاملات میں، دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی گئی ہے۔ ورنہ وہ امور جن کا علم عموماً صرف خواتین ہی کو ہوتا ہے، ان میں ایک عورت کی گواہی بھی کافی سمجھی جاتی ہے، جیسے رضاعت، ولادت اور حضانت وغیرہ کے مسائل ،چنانچہ احادیثِ مبارکہ میں جہاں اس بات کا ذکر آیا ہے، اس کا تعلق مخصوص معاملات سے ہے، نہ کہ ہر شعبۂ علم اور عقل کے بارے میں کوئی عام حکم مراد ہے۔

3۔ٹک ٹاک (Tik Tok ) دورِ حاضر میں بڑھتا ہوا سوشل میڈیا کا ایک خطرناک فتنہ ہے، اس ایپ کا شرعی نقطہ نظر سے استعمال ناجائز اور حرام ہے۔

4۔ کسی شدید ضرورت کے بغیر جاندار کی تصویر بنانا  یا بنوانا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ،خواہ تصویر کسی بھی قسم کی ہو، کپڑے یا کاغذ پر بنائی جائے یا در و دیوار پر، قلم سے بنائی جائے یا کیمرے سے،لہذا موبائل فون سےجاندار کی تصویر کھینچنا اور کھینچوانا دونوں  ناجائزہے۔

5۔درودِ شریف پڑھنے کا اہتمام کریں۔ جب غصہ آئے تو "أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" پڑھیں۔ اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، اور اگر بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں۔ اسی طرح وضو کرلیں یا پانی پی لیں، اور کم از کم اس مجلس سے اٹھ کر کسی دوسرے کام میں مشغول ہوجائیں،نیزقرآن کریم کی آیت "وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ"(آل عمران 134)پڑھتے رہناچاہیے۔اوریہ آیت کریمہ غصہ کے علاج کے لیے پانی پر دَم کرکے بھی پی سکتے ہیں۔(قرآنی مستجاب دعائیں)

نیز  حکیم اختر صاحب رحمہ اللہ کی کتاب ’’ علاج الغضب ‘‘ کا مطالعہ کریں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا، وأما العقيق ففي التختم به اختلاف المشايخ، وصحيح في الذخيرة أنه لا يجوز وقال قاضي خان الأصح أنه يجوز، كذا في السراج الوهاج.

وأما اليشب ونحوه فلا بأس بالتختم به كالعقيق، كذا في العيني شرح الهداية. هو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي.

التختم بالعظم جائز، كذا في الغرائب.

ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه فضة أو ألبس بفضة حتى لا يرى كذا في المحيط."

(كتاب الكراهية،الباب العاشر في استعمال الذهب والفضة، ج:5، ص:335، ط:دار الفكر بيروت )

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي سعيد الخدري، قال: خرج رسول الله - صلى الله عليه وسلم- في أضحى أو فطر إلى المصلى، فمر على النساء، فقال: "يا معشر النساء تصدقن فإني أريتكن أكثر أهل النار. فقلن: وبم يا رسول الله؟ قال: "تكثرن اللعن، وتكفرن العشير، ما رأيت من ناقصات عقل ودين أذهب للب الرجل الحازم من إحداكن"، قلن: وما نقصان ديننا وعقلنا يا رسول الله؟ قال: "أليس شهادة المرأة مثل نصف شهادة الرجل، قلن: بلى، قال: فذلك من نقصان عقلها، أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم، قلن: "بلى"، قال: "فذلك من نقصان دينها".

(كتاب الحيض، باب ترك الحائض الصوم، ج:1،ص: 68، ط:دار طوق النجاة)

المفاتیح فی شرح المصابیح میں ہے:

"فاعلم أن المراد بالعقل في هذا الحديث هو العقلُ الديني؛ لأنه عليه السلام علَّل نقصان عقلهن بجعل امرأتين في الشهادة كرجلٍ واحد، والشهادةُ شيءٌ شرعيٌّ وهي عبادةٌ؛ يعني: مَن كان عقله الدينيُّ أكثرَ تكون تقواه أكثر، وإذا كان تقواه أكثر يكون أحفظَ وأوعى للشهادة؛ لأنَّ شهادة الزور تكون سبب الهلاك والخسران في الآخرة، ويحترزُ العاقل عن مثل هذا، ولمَّا كان عقل النساء أقلَّ جعل الشرع امرأتين بمنزلة رجلٍ في الشهادة."

(كتاب الإيمان، ج:1، ص:101، ط:دار النوادر)

عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہونے کی کچھ وضاحت مفتی رضاء الحق حفظه الله نے یوں بیان فرمائی ہے

"عقلکی دو قسمیں ہیں:(1)عقل شرعی (2)عقل عرفی۔عورتوں میں عقل عرفی بہت اعلی درجے کی ہے، شریعت نے عورتوں کو کس طرح ناقصات العقل کہا ہے؟ تو اس کا آسان جواب آپ کو بتاتا ہوں کہ ناقصات العقل سے مراد عقل شرعی ہے، عقل عرفی عورتوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے، خود حدیث میں اس کا ذکر ہے کہ یہ عورتیں"أذهب للب الرجل الحازم من إحداکن"  ہوشیار مرد کو بھی بوتل میں اتارنے والیاں ہیں، گھر میں بھی اس کی حکومت چلتی ہے اور باہر بھی اس کی حکومت چلتی ہے، ہاں عقل شرعی کی کمی ہوتی ہے، اور عقل شرعی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نتائج کو نہ سوچے، جب آدمی نتیجے پر غور نہیں کرتا تو اسے نقصان ہوتا ہے، جیسے عورت یہ کہتی ہے کہ فلاں موقع آرہا ہے اور اس پر ہمیں اتنا خرچ کرنا ہے، ختنے میں اتنا خرچ کرنا ہے، شادی میں اتنا خرچ کرنا اور منگنی میں اتنا خرچ کرنا ہے، اور فلاں رسم اس طرح ہونا چاہئے، تو شوہر اور باپ کے مال کو انہی چیزوں میں اڑاتی ہیں، اس معنیٰ میں ان کو ناقصات العقل کہا گیا ہے کہ نتائج کو وہ نہیں سوچتیں۔"

( اشاعت دین میں خواتین کا کردار، از مفتی رضاء الحق  صاحب حفظہ اللہ، ماہنامہ بینات ،شوال  المکرم 1428ھ، 2007ء،ص: 39، ط: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی)

فتاوی شامی میں ہے :

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و مايكره فيها، ج: 1، ص: 647، ط: سعيد)

سنن أبو داؤد میں ہے:

"حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل، حدثنا أبو معاوية، حدثنا داود ابن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسودعن أبي ذر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا: "إذا غضب أحدكم وهو قائم فليجلس، فإن ذهب عنه الغضب، وإلا فليضطجع"

(کتاب الأدب،باب ما یقال عند الغضب، صفحۃ: 248، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101522

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں