بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اموال تجارت میں زکاۃ ادا کرتے وقت قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا


سوال

میں ایک دکاندار ہوں ،پہلے ہم زکاۃ قیمت خرید کے حساب سے ادا کرتے تھے ،لیکن اب کسی نے بتایا کہ آپ کو زکاۃ قیمت فروخت کے اعتبار سے ادا کرنی ہوگی ،حالانکہ ہم جو چیز بیچتے ہیں وہ مختلف قیمتوں پر بیچتے ہیں ،جب کوئی ہم سے ایک ایک عدد کے اعتبار سے لیتا ہےتو (105،106،107)پر حتی کہ 110 پر بھی دیتے ہیں ،اور جب کوئی کارٹن لیتا ہے تو ہم 103 روپے پر بیچتے ہیں ۔

1۔اب سوال یہ ہے کہ جب زکاۃ ہم قیمت فروخت کے اعتبار سے ادا کریں گے ،تو اس کا فکس ریٹ تو ہمیں معلوم نہیں ہوتا ہے ،کھبی سستا بیچتے ہیں اور کھبی مہنگا ،تو ہم زکاۃ کس ریٹ کے حساب سے دیدیں ؟2۔اگر قیمت فروخت کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو ہم کبھی کبھی کمپنی کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لئے (یعنی کمپنی ہمیں کہتی ہیں کہ اگر فلاں تاریخ تک آپ نے اتنا گاڑی مال بیچ دیا تو آپ کو ایک گاڑی پراتنا کمیشن ملے گا)قیمت خرید ہی پر اس کو فروخت کرتے ہیں ۔تو اس صورت میں کس ریٹ کے حساب سے زکاۃ ادا کرنا ہوگا؟

3۔تیسرا سوال یہ ہے:کہ کمپنی کا ٹارگٹ پورا کرنے پر کمپنی ہمیں جو کمیشن دیتی ہے اس پر زکاۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟

جواب

واضح  رہے کہ سال پورا ہونے کے بعد زکاۃ دیتے وقت مال ِتجارت کی جو قیمت بازار میں ہے ،اسی قیمت کے اعتبار سے زکاۃ ادا کی جائے گی،اسی قیمت کو قیمتِ فروخت کہتے ہیں ،اور زکاۃ میں قیمت ِفروخت کا اعتبار ہوتا ہے نہ کہ قیمت ِخرید کا ۔

1۔لہذا صورتِ مسئولہ میں جس تاریخ کو زکاۃ ادا کرنا ہو ،اس تاریخ کو مال کا جتنا اسٹاک موجود ہے اس کی قیمت اسی تاریخ کے بازاری ریٹ کے لحاظ سے لگائی جائے گی۔اور جتنی قیمت فروخت بنتی ہو اس کا ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

2۔کمپنی کا ٹارگٹ  پورا کرنے کے لئے اگر اس چیز کو قیمت  خرید ہی میں فروخت کیا تو اس صورت میں قیمت خرید  کے اعتبار سے زکاۃ  دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ 

3۔کمیشن کا روپیہ چونکہ ملک میں داخل ہے حسبِ قواعد شرعیہ دیگر مملوکہ روپیہ کی طرح اس پر بھی زکاۃ لازم ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء.وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها"

(کتاب الزكوة ،باب زكوة الغنم،ج:2،ص:286، ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء،"

(كتاب الزكوة،فصل صفة الواجب في اموال التجارة،ج:2، ص:22، ط:رشیدیه ،کوئٹه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100534

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں