بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امور معاصیہ میں والدین کی معاونت نہ کرنے کا حکم


سوال

والد صاحب کی امور معاصیہ میں معاونت کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں  مخلوق کی اطاعت جائز نہیں، چاہے وہ والدین ہوں یا کوئی اور، لہذاصورت مسئولہ میں امور معاصی میں والدین کی اطاعت کرناجائز نہیں ۔ ان امور میں والدین کی نافرمانی کرنےاوران میں معاونت نہ کرنے سے آپ گناہ گار نہیں ہوں گے،تاہم اس کے باوجود والدین کا ادب و احترام ہر حال میں لازم ہے۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی بے ادبی، سخت کلامی یا ناروا سلوک کی اجازت نہیں، آپ ان کے ساتھ حسنِ سلوک جاری رکھیں، ان کی خدمت اور دلجوئی کا اہتمام کریں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کی ہدایت کے لیے دعا کرتے رہیں۔

مزید یہ کہ مناسب موقع اور حکمت کے ساتھ انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں کہ ایسے کام اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ امید ہے کہ نرمی، خیرخواہی اور مسلسل دعا کے نتیجے میں بتدریج ان کے دلوں میں نرمی پیدا ہوگی ۔

ارشاد باری تعالی میں ہے:

"واِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤی اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ؗ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ." (الآیة:15)

ترجمه"اور اگر تجھ پر دونوں اس بات کا زور ڈالیں تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھیرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہ ہو  تو تو ان کا کچھ کہنا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کرنا اور اسی کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع ہو پھر تم سب کو میرے پاس آنا ہے پھر میں تم کو جتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔"(ازبيان القرآن)

سنن ترمذی میں ہے:

"حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع عن ابن عمر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية، فلا سمع عليه ولا طاعة."

(‌‌أبواب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ج:3، ص:503، رقم:1803، ط:دار الرسالة العالمية)

ترجمہ "حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مسلمان پر لازم ہے کہ وہ (اپنے امیر کی) بات سنے اور اطاعت کرے، خواہ اسے وہ بات پسند ہو یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔ پس اگر اسے معصیت (یعنی اللہ کی نافرمانی) کا حکم دیا جائے تو پھر نہ اس پر سننا لازم ہے اور نہ اطاعت کرنا۔"

تفسیر مظہری میں ہے:

"(مسئلة) لا يجوز إطاعة الوالدين ‌إذا ‌امرا بترك فريضة او إتيان مكروه تحريما لان ترك الامتثال لامر الله والامتثال لامر غيره اشراك معنى ولما روينا من قوله عليه السلام لاطاعة للمخلوق فى معصية الخالق- ويجب إطاعتهما ‌إذا ‌امرا بشئ مباح لا يمنعه العقل والشرع."

(سورة اللقمان، آية:15، ج:7، ص: 256، ط:مكتبة الرشدية الباكستان)

فتاوی شامی میں ہے:

"[فرع] في فصول العلامي: إذا رأى منكرا من والديه يأمرهما مرة، ‌فإن ‌قبلا فبها، وإن كرها سكت عنهما واشتغل بالدعاء والاستغفار لهما فإن الله تعالى يكفيه ما أهمه من أمرهما."

(كتاب الحدود، باب التعزیر، ج:4، ص:78، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں