
ہم Amazon FBA (ایمازون کی وہ سروس جس میں امیزون ہمار ا مال اپنے گودام میں رکھ کر خود کسٹمر تک پہنچاتا ہے) پر مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔ ایمازون میں نئی Listing( پروڈکٹ کی آن لائن تفصیل / اشتہار ) بناتے وقت seller (فروخت کنندہ) کو product(سامان) کا Weight(وزن) اور Dimensions(لمبائی، چوڑائی اور اونچائی ) درج کرنا ہوتا ہے، اور انہی معلومات کی بنیاد پر ابتدائی FBA Fee(ایمازون کی گودام، پیکنگ اور ڈیلیوری کی فیس ) ظاہر ہوتی ہے۔صورت مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات ہم جان بوجھ کر پیکنگ کے بعد کے حقیقی سائز اور وزن سے کم وزن اور سائز درج کرتے ہیں تا کہ Amazon کی FBA Fee کم آئے، پھر مختلف صورتیں پیش آتی ہیں:
بعض دفعہ Amazon شروع میں ہمارے درج کیے ہوئے سائز کے مطابق کم فیس لیتا رہتا ہے، اور بعد میں بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا، حالانکہ حقیقی سائز اس سے زیادہ ہوتا ہے۔
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ پہلے پارسل (ایک بار میں بھیجا گیا مال / ڈبہ) میں Amazon کم فیس لیتا ہے،لیکن بعد کے پارسلز (دوبارہ بھیجے گئے مال / ڈبے) میں ایمازون اپنی طرف سے مال کو دوبارہ ناپ تول کرکے اس کے حقیقی سائز کے مطابق زیادہ فیس وصول کرنا شروع کرتا ہے۔
بعض دفعہ ایمازون حقیقی سائز سے بھی زیاد فیس چارج کردیتا ہے، پھر ہم case open (شکایت/درخواست درج ) کرتے ہیں تو وہ دوبارہ پیمائش کر کے فیس کم کر دیتا ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ :
1- کیا seller (فروخت کنندہ) کی طرف سے جان بوجھ کر حقیقی سائز اور وزن سے کم معلومات درج کرنا شرعاً دھو کہ ہے، اور ناجائز عمل شمار ہو گا؟
2-اگر ایمازون ہماری دی ہوئی معلومات کے مطابق کم فیس لیتا ہے، اور خود سائز اور وزن کو دوبارہ چیک نہیں کرتا، تو کیا اس صورت میں وہ زائد بچنے والی رقم ہمارے لیے جائز ہو گی؟
3-اور اگر ایمازون بعد میں خود درست سائز اور وزن کے مطابق فیس درست کر دے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
1- کاروبار کا شرعی اصول یہ ہے کہ کاروبار امانت داری کے ساتھ حلال اور جائز طریقوں کے مطابق کیا جائے، اگر کاروبار میں جھوٹ، دھوکہ دہی، اور خیانت ہو، یا کوئی غیر شرعی معاملہ ہو تو ایسے کاروبار سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں ایمازون پر Products فروخت کرنے والے کے لیے مال کے حقیقی سائز اور وزن سے کم سائز اور وزن لکھوانا شرعاً دھوکہ اور خیانت ہے، اور ایسا کرنا جائز نہیں ہے، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ: جس نے ہمارے دھوکہ اور خیانت کی وہ ہم میں سے نہیں۔لہذا فروخت کنندگان کو چاہیئے کہ وہ اپنے مال کا حقیقی سائز اور وزن درج کیا کریں۔
2- جاننا چاہیئے کہ جو رقم دھوکے اور خیانت کے ذریعے سے حاصل کی جائے، وہ ناجائز اور حرام ہوتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں فروخت کنندہ کو حقیقی سائز سے کم سائز بتانے کے سبب جو بچت ہورہی ہے، وہ حلال نہیں، اتنی مقدار رقم ایمازون کو دینا لازم ہوگا، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اتنی رقم ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
3- اگر ایمازون خود سائز اور وزن کرکے ازخود درست کرکے فیس وصول کرے، تو حسب معاہدہ ایمازون کے لیے درست ہوگا۔
مسلم شریف میں ہے:
"أخبرني العلاء ، عن أبيه ، عن أبي هريرة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني»."
ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، تو آپ ﷺ نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا، آپ کی انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے صاحبِ طعام! یہ کیا ہے؟اس نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم نے اسے غلے کے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا دیا وہ مجھ میں سے نہیں۔"
(کتاب الإیمان، باب قول النبی ﷺ من غشنا فلیس منا، ج:1، ص:99، ط:دار إحياء التراث العربي)
بخاری شریف میں ہے:
"حدثنا سليمان بن حرب: حدثنا شعبة، عن قتادة، عن صالح أبي الخليل، عن عبد الله بن الحارث: رفعه إلى حكيم بن حزام رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، أو قال: حتى يتفرقا، فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما)."
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:خرید و فروخت کرنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار حاصل رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں۔ پھر اگر وہ سچ بولیں اور بات واضح کردیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور اگر وہ عیب چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کی تجارت کی برکت ختم کردی جاتی ہے۔"
(کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان، ج:2، ص:732، ط:دارابن کثیر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"رجل أراد أن يبيع السلعة المعيبة وهو يعلم يجب أن يبينها فلو لم يبين قال بعض مشايخنا يصير فاسقا مردود الشهادة قال الصدر الشهيد لا نأخذ به كذا في الخلاصة."
(کتاب البیوع، الباب العشرون في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة، ج:3، ص:210، ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام(قوله؛ لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ
قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة، بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر."
(کتاب البیوع، باب خیارالعیب، ج:6، ص:47، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101783
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن