بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امانت، وعدہ خلافی اور رقم کی ادائیگی میں تاخیر کا شرعی حکم


سوال

میری پھوپھی بیوہ ہونے کے بعد سے میرے والد صاحب کے گھر میں مقیم ہوگئیں، اور اب بھی وہ وہیں رہتی ہیں۔ میرے والد صاحب اُس وقت سے اُن کی مکمل کفالت کر رہے تھے۔ اُنہوں نے پھوپھی کی بیٹی کی شادی کے اخراجات، بیٹے کی تعلیم، اور گھر کے تمام خرچے برداشت کیے۔

میری پھوپھی نے سن 2006 میں میرے والد صاحب کو بارہ لاکھ روپے بطور امانت (رکھنے کے لیے) دیے۔ چند سال بعد انہوں نے اپنے بھائی، یعنی میرے والد صاحب سے کہا کہ وہ ان کے لیے مکان خرید دیں۔ والد صاحب نے اس وقت وعدہ کیا کہ وہ مکان ان کے لیے خرید لیں  گے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر وہ یہ وعدہ پورا نہ کر سکے، اور گزشتہ سال اُن کا انتقال ہو گیا۔

اب میری پھوپھی اور ان کے بیٹے مکان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ آپ کے والد نے مکان دلانے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے آپ لوگ ہمیں مکان دلوائیں، یا پھر ایک کروڑ روپے ادا کریں۔

سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
کیا ہمیں صرف وہی 12 لاکھ روپے واپس کرنے ہوں گے جو والد صاحب کو دیے گئے تھے؟
یا پھر جیسا کہ پھوپھی کے بیٹے کا کہنا ہے، یہ رقم اس وقت مکان کی قیمت کے برابر تھی، لہٰذا اب ہمیں موجودہ قیمت (کروڑ  روپے) کے حساب سے ادا کرنی ہوگی؟

وضاحت:اب یہ معلوم نہیں کہ والد صاحب نے یہ رقم بطورِ امانت اپنے پاس رکھی تھی اور اسے استعمال نہیں کیا تھا، یا اسے اپنے استعمال میں لا کر خرچ کر لیا تھا؛ اس بارے میں کوئی یقین یا شہادت موجود نہیں۔

اسی طرح دیگر کاغذات وغیرہ جو صرف والد صاحب کے علم میں تھے، وہ بھی اب نامعلوم ہیں اور ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات دستیاب نہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں، سائلہ کی پھوپھی نے جب اپنے بھائی (یعنی سائلہ کے والد) کے پاس 12 لاکھ روپے بطورِ امانت رکھوائے تھے، تو یہ تمام رقم سائلہ کے والد کے پاس امانت کے حکم میں تھی۔

اس کے بعد جب سائلہ کی پھوپھی نے اُن پیسوں سے مکان دلانے کا کہا، اور سائلہ کے والد نے اس پر ہاں بھی کی، تو یہ محض ایک وعدہ تھا،جس کا پورا کرنا سائلہ کے والد پر دیانۃً لازم تھا،لیکن اگر  سائلہ کے والد نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے ، اور بغیر کسی عذر کے پورا نہیں کیا، تو اس صورت میں اُنہیں وعدہ خلافی کا مرتکب ہوکرکے گناہ ملے گا۔ البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے وعدہ پورا نہیں کر سکے، تو اُن پر شرعاً کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

تاہم دونوں صورتوں میں مکان دلانا اُن پر قضاءً واجب نہیں تھا، جس کی وجہ سے اب سائلہ کی پھوپھی یا اُن کے بچے مکان یا اس کے برابر کی رقم کا شرعاًمطالبہ نہیں کر سکتے۔

نیز چونکہ اب امانت کے پیسوں کا حال معلوم نہیں کہ سائلہ کے والد نے وہ رقم آخر تک بطورِ امانت اپنے پاس رکھی تھی یا اپنے استعمال میں لے آئے تھے، اس لیے اب وہ رقم قرض (ادھار) کے حکم میں ہے، اور یہ رقم مرحوم کے ترکہ میں سے منہا کی جائیگی۔

یعنی کئی سال گزر جانے کے باوجود بھی وہی 12 لاکھ روپے واجب الادا ہوں گے۔ وقت گزرنے کی وجہ سے مزید رقم (یعنی اضافہ یا نفع) کا مطالبہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا (الإسراء:34) 

ترجمہ:" اور عہد ( مشروع) کو پورا کیا کرو، بے شک ( ایسے ) عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔"

فائدہ:" عہد میں تمام احکامِ الہی اور تمام عقود جو فیما بین العباد ہیں داخل ہوگئے ،چنانچہ  کبیر میں ہے:"كل عقد تقدم لأجل توثيق الأمر و توكيده فهو عهد." اور خازن میں ایسی تفسیر کی ہے کہ وعدہ کو بھی شامل ہے وہ یہ ہے :" قيل أراد بالعهد ما يلتزمه الإنسان علي نفسه ."،لیکن وعدہ کا وجوب دیانۃً ہوگا قضاءً نہیں او رمشروع کی قید سے غیر مشروع نکل گئے اور نیز وجوب وفائے وعدہ میں دوسرے دلائل سے عدمِ عذر کی بھی قید ہے اور عذر میں وجوب ساقط ہے۔"( بیان القرآن )

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"لو مات المودع ولم تعرف الوديعة فهي دين في تركته يساوي دين الصحة، كذا في التهذيب.

 هذا إذا مات ولم يعلم حال الوديعة، أما إذا عرف الوارث الوديعة والمودع يعلم أنه يعرف فمات ولم يبين لا يضمن، كذا في الفصول العمادية."

(کتاب الودیعۃ، الباب الخامس، ج:4، ص:350، ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی  شامی میں ہے:

"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."

(كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل،ج:4،ص:320، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں