
اگرکوئی شخص کسی معاملہ میں جھوٹی قسم کھائےتواس کےمتعلق شریعت کاکیاحکم ہے؟کیاجھوٹی قسم کھاناجائزہے؟
جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہوں میں سے شدید ترین گناہ ہے، جھوٹی قسم کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ رب العزت کا نام استعمال کرکے اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکر جھوٹ کہتاہے، چھوٹی قسم کےمتعلق سخت وعیدیں واردہوئی ہیں۔
لہذاجھوٹی قسم اٹھاناجائزنہیں ہے، اگرکسی نے جھوٹی قسم اٹھائی ہےتواس پرسچےدل سے توبہ کرے، اور توبہ کی تکمیل یہ ہےکہ اس قسم کے نتیجے میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی کرے۔
مشكاة المصابيح میں ہے:
"عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس."
(كتاب الأيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، ج: 1، ص:22، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
"ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا "۔
سنن ابی داودمیں ہے:
"عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حلف على يمين هو فيها فاجر، ليقتطع بها مال امرئ مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان."
(كتاب الأيمان والنذور، باب فيمن حلف يمينا ليقتطع بها مالا لأحد، ج: 3، ص: 220، ط: المكتبة العصرية،بيروت)
"حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی جھوٹی قسم پر اصرار کرے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ناحق حاصل کر لے، تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا"۔
الدرالمختارمع ردالمحتارمیں ہے:
"(وهي) أي اليمين بالله ....(غموس): تغمسه في الإثم ثم النار، وهي كبيرة مطلقا.لكن إثم الكبائر متفاوت نهر
معلوم أن إثم الكبائر متفاوت. وكذا قال المقدسي: أي مفسدة أعظم من هتك حرمة اسم الله تعالى."
(كتاب الأيمان، ج: 3، ص: 705، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100148
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن