بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 محرم 1448ھ 07 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

امانت کے گم ہوجانے کی صورت میں ضمان کا حکم


سوال

ایک بیٹی اپنی والدہ کا چار اشرفی سونا لےکر کراچی گئی،تاکہ اسے فروخت کرکے یا پگھلواکر نیا زیور بنوائے، کچھ مصروفیت کی وجہ سے وہ سونار کے پاس نہ جاسکی، بلکہ وہیں ایک رشتہ دار بیوہ عورت کے پاس امانت رکھوادیا، اب وہ سونا اس بیوہ عورت سے گم ہوگیا ہے، اس بیوہ عورت کے بقول سونا مضبوط قسم کے لاکر میں محفوظ تھا، ایک دن بازار جانے سےپہلے اس نے لاکر کھول کر دیگر زیورات اٹھائے، اور اس امانت والے سونے کو وہیں رکھ دیا، جب وہ دوبارہ بازار سے آئی تو وہ چار اشرفی سونا لاکر میں موجود نہیں تھا، بہت ڈھونڈا کوشش کی مگر نہیں ملا، اس بیوہ عورت کا دیور بھی اس وقت اسی کمرہ میں موجود تھا، اور  اس کے بازار سے واپسی تک وہیں پر تھا، اس نے حلفاً کہا کہ میں نے نہیں اٹھایا اور نہ ہی مجھے کچھ علم ہے، گھر کے دیگر افراد نے بھی قرآن اٹھا کر حلفاً کہا کہ  نہ ہم نے یہ سونا اٹھایا ہے اور نہ ہی ہمیں اس کا علم ہے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ اس امانت کا ضمان اس بیوہ عورت پر آئے گا یا نہیں؟ اگر آئے گا تو کتنا آئے گا؟ 

وضاحت: لاکر کوئی مضبوط قسم کا نہیں تھا، بلکہ ایک عام  سا صندوق تھا، جس پر تالا لگا ہوا تھا، اور ایک کمرہ میں محفوظ رکھا ہوا تھا، اور مذکورہ بیوہ عورت چابی اپنے ساتھ بازار  لےکر گئی تھی،اور مذکورہ بیوہ عورت اپنا قیمتی سامان بھی اسی صندوق میں رکھتی تھی۔ 

نیز مذکورہ صندوق میں سے صرف مذکورہ سونا ہی چوری ہوا ہے، اور کسی قسم کا سامان صندوق میں سے چوری نہیں ہوا ہے،نیز مذکورہ  بیوہ عورت امینہ شمار کی جاتی ہے۔ 

جواب

صورت مسئولہ میں جس عورت کے پاس چار اشرفی سونا بطور امانت رکھوایا گیا تھا، اگر واقعتًا اس کا بیان درست ہے کہ اس نے مذکورہ سونا گھر میں محفوظ جگہ میں رکھا تھا اوراپنے زیورات نکالنے کے بعد لاکر کو تالا لگاکر بند کیا تھا، یعنی   اس  کی حفاظت میں اس کی طرف سے کوئی کوتاہی اور غفلت نہیں پائی گئی تھی، تو اس صورت میں مذکورہ سونے کے چوری ہوجانے پراس عورت  پر اس کا ضمان لازم  نہیں ہوگا، اور اگر اس عورت کی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے سونا چوری ہوا ہو  اور یہ ثابت ہوجائے، تو ایسی صورت میں اس عورت پر اس کا ضمان لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"(وهي أمانة) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها (فلا تضمن بالهلاك) إلا إذا كانت الوديعة بأجر أشباه معزيا للزيلعي (مطلقا) سواء أمكن التحرز أم لا، هلك معها شيء أم لا لحديث الدارقطني: ليس على المستودع غير المغل ضمان.(واشتراط الضمان على الأمين) كالحمامي والخاني (باطل به يفتى) خلاصة وصدر الشريعة."

(کتاب الإیداع، ج: 5، ص: 664، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني."

(کتاب الودیعة، الباب الأول، ج: 4، ص: 372، ط: دارالکتب العلمیة)

بدائع الصنائع میں ہے: 

"وأما بيان ما يغير حال المعقود عليه من الأمانة إلى الضمان، فأنواع: منها ترك الحفظ؛ لأنه بالعقد التزم حفظ الوديعة على وجه لو ترك حفظها حتى هلكت يضمن بدلها، وذلك بطريق الكفالة، ولهذا لو رأى إنسانا يسرق الوديعة، وهو قادر على منعه ضمن؛ لترك الحفظ الملتزم بالعقد."

(كتاب الوديعة، فصل في بيان ما يغير حال الوديعة، ج: 6، ص: 211، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144712100089

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں