
مسئلہ یہ ہے کہ میری بہن کی چھ (6) ماہ کی حاملہ ہے وہ نارمل الٹرا ساؤنڈ کرنے ہسپتال گئی، لیکن جب ڈاکٹر نے چیک کیا تو کہا کہ آپ بڑا والا الٹرا ساؤنڈ کرائیں ،تو اس کے اس طرح چار الٹرا ساؤنڈ ہوئے، اس سے پتہ چلا بچے کا پانی بالکل نہیں ہے، ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اگر بچہ اپنے وقت پر پہنچ جائے گا تو مرا ہوا ہو گا پانی نہ ہونے کی وجہ سے ،جب کہ میری بہن کا پہلا بیٹا بھی آپریشن سے ہوا اور اس میں بھی آپریشن ہوگا، لیکن بچہ مرا ہوا ہو گا، ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ بچے کو ضائع کرا دو ابھی بچہ زندہ ہے، دھڑکن چل رہی ہے، لیکن ڈاکٹر نے بچہ ضائع کرانے کی تاریخ بھی دے دی ہے، آپ ہمیں بتائیں کیا اس طرح بچہ ضائع کرانا جائز ہے یا نہیں؟
اور ڈاکٹر نے کہا ابھی نارمل ہوگا بعد میں آپریشن سے ہوگا اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دونوں صورتوں میں بچہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گا تو کیا بچہ کو ضائع کرانا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں چھ ماہ کا حمل گرانا قتل کے حکم میں ہونے کی وجہ سے حرام ہے، پس اللہ تعالی سے ہونے والے بچہ کی صحت یابی کی دعا کی جائے، اللہ ہی قادر مطلق ہے، بگڑے کام بنانے والا ہے، بچہ چوں کہ زندہ ہے، اللہ تعالی پانی کی کمی پوری کرنے پر قادر ہے، لہذا ڈاکٹروں کے کہنے پر حمل ضائع نہ کروایا جائے، بصورتِ دیگر والدین سخت گناہ گار ہوں گے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وكذلك المرأة يسعها أن تعالج لإسقاط الحبل ما لم يستبن شيء من خلقه وذلك ما لم يتم له مائة وعشرون يوما ثم إذا عزل وظهر بها حبل هل يجوز نفيه؟ قالوا إن لم يعد إلى وطئها أو عاد بعد البول ولم ينزل جاز له نفيه وإلا فلا كذا في التبيين."
(كتاب النكاح، الباب التاسع في نكاح الرقيق، فصول في خيار العتق، ج:1، ص:335، ط: دار الفکر )
و فیہ ایضاً:
"وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان.
العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي.
وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية."
(کتاب الکراهیة، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد، ج:5، ص:356، ط: دار الفکر)
و فیہ ایضاً:
" والجنين الحر مضمون بالغرة، فإذا دفع بها، أو فدى يقال للمشتري: لما أخذت الغرة، فقد سلم لك شيء من بدل الولد، ولو سلم لك الولد أو قيمته الدية بأن كان حيا لزمك القيمة بتمامها للمستحق، فإذا سلمت لك الغرة، وهي خمسمائة وجب أن تغرم بحساب ذلك."
(کتاب الجنایات، الباب الحادي عشر في جناية الحائط والجناح والكنيف، ج:1، ص:36، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100124
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن