بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد التمش نام رکھنے کا حکم


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ التمش نام رکھنا کیسا ہے؟محمد التمش ، التمش مرتضیٰ ، التمش داؤد۔

جواب

التمش ترکی  زبان کا لفظ ہے،جس کا معنی:  ہراول دستہ/ آگے کی فوج کے ہیں۔اوریہ ہندوستان کے مشہور بادشاہ شمس الدین کا لقب بھی ہے۔اور داؤد مشہورنبی اور پیغمبر کا نام ہے، اورمرتضیٰ (معنی:منتخب کیا ہوا، مقبول  وپسندیدہ)ہمارے آخری نبیﷺکے ناموں میں سے ایک  نام ہے ۔اور حضرت علی رضی اللہ کا لقب بھی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ تمام نام: محمد التمش ، التمش مرتضیٰ ، التمش داؤد،رکھنا درست ہیں۔
معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ میں ہے:

"ارتضى يرتضي، ارتض، ارتضاء، فهو مرتض، والمفعول ‌مرتضى

ارتضى الشخص/ ارتضى الأمر: رضيه، أي اختاره وقبله ارتضى تسوية المشكلات- ارتضاه لصحبته: اختاره ورآه أهلا لها."

(ر۔ض۔و، ج:2، ص:903، ط:عالم الكتب)

فیروز اللغات میں ہے:

”التمش: [ت۔ا۔مذ]آگے کی فوج۔ ہر اول۔2:خاندان غلاماں کے بادشاہ شمس الدین کا لقب۔“

( ا-ل،ص:112،  ط: فیروز سنز لمیٹڈ)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں