
میرا سوال یہ ہے کہ التمش نام رکھنا کیسا ہے؟محمد التمش ، التمش مرتضیٰ ، التمش داؤد۔
التمش ترکی زبان کا لفظ ہے،جس کا معنی: ہراول دستہ/ آگے کی فوج کے ہیں۔اوریہ ہندوستان کے مشہور بادشاہ شمس الدین کا لقب بھی ہے۔اور داؤد مشہورنبی اور پیغمبر کا نام ہے، اورمرتضیٰ (معنی:منتخب کیا ہوا، مقبول وپسندیدہ)ہمارے آخری نبیﷺکے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔اور حضرت علی رضی اللہ کا لقب بھی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ تمام نام: محمد التمش ، التمش مرتضیٰ ، التمش داؤد،رکھنا درست ہیں۔
معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ میں ہے:
"ارتضى يرتضي، ارتض، ارتضاء، فهو مرتض، والمفعول مرتضى
ارتضى الشخص/ ارتضى الأمر: رضيه، أي اختاره وقبله ارتضى تسوية المشكلات- ارتضاه لصحبته: اختاره ورآه أهلا لها."
(ر۔ض۔و، ج:2، ص:903، ط:عالم الكتب)
فیروز اللغات میں ہے:
”التمش: [ت۔ا۔مذ]آگے کی فوج۔ ہر اول۔2:خاندان غلاماں کے بادشاہ شمس الدین کا لقب۔“
( ا-ل،ص:112، ط: فیروز سنز لمیٹڈ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102052
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن