
کیا درج ذیل قول، علامہ شوکانی رحمه الله کا ہے ؟رہنمائی فرمائیں:
’’رضائے الہی کی خاطر تعلقات بحال رکھنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ہے‘‘۔
سوال میں آپ نے علامہ شوکانی رحمہ اللہ کے جس قول کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ قول "الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني"میں مذکورہ ہے۔البتہ آپ نے جو ترجمہ ذکر کیا ہے اس میں ’’رضائے الہی کی خاطر تعلقات بحال رکھنا‘‘کے الفاظ مذکورہ قول کا ترجمہ تو نہیں، مفہوم اور مراد ہوسکتے ہیں۔"الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني"کی پوری عبارت اور اس کاترجمہ درج ذیل ہے:
"سانِحةً فكّرتُ بعضَ الليالي في حديث: "المتحابُّون في الله على َمنابرٍ مِن نُورٍ" فاستعظمتُ هذا الجزاءَ مع حقارة العمل، ثم راجعتُ الذكر فوجدتُ التحابَّ في الله مِن أصعبِ الأمور وأشدِّها، ووجودُه في الأشخاص الإنسانيّة أعزُّ مِن الكِبريت الأحمر، فَذهبَ ما تصوّرتُه مِن الاستعظام لِلجزاء. وبيانُ ذلك أنّ التحابَّ الكائنَ بَين النوع الإنسانيِّ راجعٌ عِند إمعان النظر إلى محبّة الدنيا، لا يبعثُ عليه إلّا عرضٌ دُنيويٌ، فإنّك إذا عمدتُ إلى الفرد الكامل مِن نوع المحبّة، وهو محبةُ الولد لِوالده، والوالدِ لِولده، وأحدِّ الزوجين لِلآخر، وجدتُه يؤُول إلى محبّة الدنيا لِزواله بِزوال الغرض الدُنيويِّ".
(الفتح الرباني، الفقه وأصول، بحث في المتاحبين في الله، ج:11، ص:5297-5300، ط: مكتبة الجيل الجديد، صنعاء-اليمن)
ترجمہ:
’’ایک رات فرصت میں، میں نے حدیث :"المتحابُّون في الله على َمنابرٍ مِن نُورٍ"(جو لوگ اللہ (کی رضاء )کے لیےآپس میں محبت رکھتے ہیں (قیامت کے دن)وہ نورکے منبروں پر ہوں گے) میں غور وفکر کیاتو میں نے اس معمولی عمل کے مقابلے میں( اللہ تعالی کی طرف سے) اس جزاء کو بہت بڑا سمجھا،پھر میں نے قرآنِ کریم کی طرف رجوع کیا( اور اس میں غور کیا)تومیں نے پایاکہ اللہ تعالی(کی رضاء) کے لیےآپس میں محبت رکھنا(دنیا کے) مشکل ترین کاموں میں سےہے، اور انسانوں میں اس کاوجود ’’کبریتِ احمر‘‘ (سرخ گندھک نامی کم یاب شئے)سے بھی زیاد ہ کم یاب ہے،تو میرےذہن میں اس جزاء کوبہت بڑا سمجھنے کاجوتصور تھا، وہ دورہوگیا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ (دنیا میں) انسانوں کی آپس میں محبتیں غوروفکر کے نتیجے میں دنیا کی طرف لوٹ رہی ہوتی ہیں،اس کاسبب کوئی نہ کوئی دنیوی غرض ہی ہوتی ہے، چنانچہ جب میں نے نوعِ محبت کے فردِ کامل(یعنی والد سے بیٹے کی محبت،بیٹے کی والد سے محبت اور میاں بیوی میں سے ایک کی دوسرے سے محبت ) کا قصد(کرکے اس میں غور )کیا تومیں نے پایاکہ یہ دنیا کی محبت کی طرف لوٹ رہی ہے؛ اس لیے کہ دنیوی غرض کے پورے ہوجانے سے یہ محبت بھی ختم ہوجاتی ہے‘‘۔
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144502100838
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن