بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 محرم 1448ھ 21 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

علامہ اقبال کے اشعار: ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں اُمتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں، کا مطلب


سوال

 ہمارے کلاس سیکنڈ ایئر کے اردو نصاب میں علامہ محمد اقبال کی ایک نظم (جواب شکوہ) آیا ہے جو بانگِ درا سے لیا گیا ہے اس میں ایک شعر ہے:”ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں اُمتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں“

ہمارے ایک ٹیچر ہیں کل وہ کلاس میں اس شعر کی تشریح کر رہے تھے جب وہ شعر کے دوسرے قطعے میں پہنچے تو وہ ذرا زیادہ مبالغہ کر گئے، انہوں نے کہا”کہ اگر امتی جو گناہ کے کام کریں مثلاً زنا کرے یا چوری کرے تو یہ پیغمبر کیلئے باعث رسوائی ہے“

تو کیا یہ انہوں نے صحیح کیا ہے؟ براہ کرم ہماری اصلاح کریں۔

جواب

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
اُمتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں

ان اشعار کی شرح  میں علامہ اقبال کے اشعار کے  معتبر شارح مولانا غلام رسول مہر صاحب لکھتے ہیں:

”ساتواں بند : مسلمانوں کی حالت کیا ہے ؟ ہاتھوں میں زور نہیں۔ دل دین سے پھر جانے کے عادی ہیں۔ یہ امتی تو رسول ( حضرت رسول اکرم ﷺ ) کے لئے کچھ عزت کا باعث نہیں ہو سکتے ۔ ۔۔۔۔ مراد د یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات اور اسلامی کردار کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔ پورا کارخانہ ہی بدل گیا ۔ تمہاری خصلتیں تمہارے شیوے ، تمہارے طریقے ، تمہارا نصب العین ان میں سے کوئی بھی چیز اسلامی نہیں۔“

(مطالب کلام اقبال اردو، جواب شکوہ، ص:357، ط:شیخ غلام علی اینڈ سنز)

اس شرح کی روشنی میں ان اشعار کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ علامہ اقبال امت کی بد حالی کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ان کے دل بے دینی کے عادی ہوگئے ہیں ، وہ بجائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرتے ، اور آپ کےلیے باعثِ فخر بنتے، لوگ دیکھ کر کہتے کہ یہ محمدی ہیں اور یہ آپ صلی اللہ کے لیے فخر ہوتا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے دور ہوگئے، اور اسلامی کردار و خصلتیں چھوڑ دیں تو انجان لوگ سمجھیں گے  کہ یہ۔ نعوذ باللہ۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیم  ہے، تو غیروں میں آپ کو اچھے نام سے ذکر نہیں کیاجائے گا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ  ہرفرد کا انفرادی ہر گناہ آپ کے لیے  نعوذ باللہ رسوائی ہے کیوں کہ انفرادی گناہ ہر دور میں ہوتے رہے  ہیں ان اشعار میں امت کے عمومی اور مجموعی بے عملی ، بے دینی اور  بدحالی کا ذکر ہے۔

فقط  واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706102148

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں