بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالی ماں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے،پھر اپنے بندوں کو عذاب کیوں دے گا؟


سوال

اگر میں نماز نہ پڑھوں تو اللہ مجھے سزا کیوں دے گا ؟ وہ تو انسانوں سے 70ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ رحم کرنے والا ہے تو وہ انسانوں کی طرح سزا کیوں دیتا ہے ؟

جواب

بے شك الله تعالی اپنے بندوں پر  ماں سے زياده رحم كرنے والا ہے اور اللہ تعالی اپنے بندوں کو عذاب نہیں دینا چاہتا ،لیکن  چوں کہ  الله تعالی نے  اپنے پیغمبروں  كے ذريعے اپنے بندوں كو زندگی گزارنے كا طریقہ بتا دياہےاور اس کے مطابق زندگی گزارنے والوں کو اچھے انجام  اور اس طریقہ سے انحراف کرنے والوں کو  برے انجام کی خبر بھی دے دی ہے ،اب اللہ تعالی کے احکامات کو پورا کرنا ہی اللہ تعالی کی رحمت کو حاصل کرنے اور اس کے عذاب سے بچنے کا ظاہری سبب اور راستہ ہے ؛لہذا جوشخص اللہ تعالی کے احکامات کو پورا کرتا ہے وہ اللہ تعالی کی رحمت کے حصول کا راستہ اختیار کر رہا ہے جس کے نتیجے میں اسے  اللہ کی  رحمت حاصل ہوگی اور وہ اس کے  عذاب سے بچ سکے گا  اور جو شخص اللہ تعالی کے احکامات کوپورا نہ کرکے اپنے لیے رحمت کے حصول کے ذرائع اختیار نہ کرے بلکہ   احکامِ خداوندی میں غفلت اور کوتاہی سے کام لے اور خوداپنے لیے  راہِ جہنم اختیار کرے تو  پھر اللہ تعالی کی رحمت نہ ملنے کا سوال کیوں کرے۔لہذا ایسا شخص اللہ تعالی کی طرف سے مقررکردہ سزا کا مستحق ہوگا۔

اسی طرح مسئولہ صورت میں نماز نہ پڑھنا اللہ تعالی کے حکم کو پورا نہ کر کے اللہ کی رحمت کے حصول کے ذریعہ کو خود اپنے لیے بند کرنا ہے جس کے نتیجے میں بندہ سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔نیز اگر احکام خداوندی کی بجاآوری سے اعراض کرنے والوں کو سزا نہ دی جائے تو اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں موٴمن و کافر، نیک و بد، فرمانبردار و نافرمان، مطیع اور عاصی سب برابر ہیں، یہ تو اللہ تعالی کی صفتِ عدل کے خلاف ہے،   الغرض آخرت میں مجرموں کو سزا اس لئے بھی قرینِ رحمت ہوئی کہ اس کے بغیر مطیع اور فرمانبردار بندوں سے انصاف نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ اسی طرح کا ایک سوال ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہ ” میری ماں اور میرا باپ آپ  پر قربان ہوں، کیا اللہ تعالی اپنے بندوں پر ا س سے کہیں زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں، اس عورت نے کہا ”ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی،(تو پھر اللہ تعالی اپنے بندوں کو دوزخ کی آگ میں کیوں ڈالتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر) روتے ہوئے اپنا سر نیچے کر لیا پھر (تھوڑی دیر کے بعد ) اپنا سرمبارک اس عورت کی طرف اٹھایا اور فرمایا ”اللہ تعالی  اپنے بندوں کو (ہمیشہ) عذاب نہیں دیتا، ہاں صرف ان لوگوں کو عذاب دیتا ہے جو سرکش ہیں اور ایسے سرکش جواللہ تعالی سے سرکشی کرتے ہیں (یعنی اس کے احکام نہیں مانتے ) اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہنے سے انکار کرتے ہیں ۔“

(مظاہر ِحق جدید،کتاب الدعوات، رحمت باری تعالی کی وسعت کا بیان، ج:2، ص:558، ط:دار الاشاعت)

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

عن عبد الله بن عمر قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته فمر بقوم فقال: «من القوم؟» قالوا: نحن المسلمون وامرأة تحضب بقدرها ومعها ابن لها فإذا ارتفع وهج تنحت به فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أنت رسول الله؟ قال: «نعم» قالت: بأبي أنت وأمي أليس الله أرحم الراحمين؟ قال: «بلى» قالت: أليس الله أرحم بعباده من الأم على ولدها؟ قال: «بلى» قالت: إن الأم لا تلقي ولدها في النار فأكب رسول الله صلى الله عليه وسلم يبكي ثم رفع رأسه إليها فقال: " ‌إن ‌الله ‌لا ‌يعذب ‌من ‌عباده إلا المارد المتمرد الذي يتمرد على الله وأبى أن يقول: لا إله إلا الله ". رواه ابن ماجه

(کتا ب الدعوات، باب سعة رحمة الله ، الفصل الثالث، ج:2، ص:743، ط:المكتب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144610100651

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں