
اللہ تعالیٰ خود احکم الحاکمین، طاقتور، بے نیاز اور غالب ذات ہے، اس کو انسان پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ضرورت اور مقصد میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جواب عنایت فرمائیں۔
واضح رہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی پاک، بے نیاز اور کامل ذات ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں، وہ ازل سے ہی کامل ہے، اور حاجت یا ضرورت اُسے پیش آتی ہے جو ناقص، مجبور یا محتاج ہو، اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجت، کمی اور احتیاج سے پاک ہے، اس لیے انسان کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی کسی ضرورت پر محمول کرنا اصولاً درست نہیں، کیوں کہ اس سوچ سے ذاتِ باری تعالیٰ (جوکہ غنی مطلق ہے)انسان (جوکہ خودمحتاج مطلق ہے)کامحتاج ہوگا،جوکہ عقلاًبھی ناممکن ہے ،اوراس نظریہ سے نقص یا عجز اللہ تعالیٰ کےلیےلازم آتا ہے، حالاں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔
اسی بنیاد پر یہ سوال بھی اصولاً درست نہیں کہ "اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا؟" کیونکہ اللہ تعالیٰ قادرمطلق، حکیم مطلق اور مختارِ کل ذات ہے، جو کچھ وہ کرتا ہے اپنی حکمت اور مشیئت سے کرتا ہے، قادرمطلق سے "کیوں" کا سوال کرنا اس کے اختیارِ کامل کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، اور اگر کسی مالک کے تصرفات پر سوال نہیں اٹھایا جاتاہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں کیوں تصرف کرتا ہے، تو پھر ربِ کائنات کے افعال پر بھی سوال نہیں اٹھایاجاسکتا ۔
اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اُس نے انسان کو بے فائدہ پیدا کیا، کیوں کہ وہ "حکیم" ہے، اور حکیم کا کوئی کام فضول یا بے مقصد نہیں ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ایسا سوال کرنا نہ عقلاً درست ہے نہ شرعاً۔
رہا سوال کہ انسان کو کیوں پیدا کیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو کسی ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے؛ کیوں کہ بعض اوقات چیزیں ضرورت کے بغیر بھی کسی مقصد کے تحت اختیار کی جاتی ہیں، جیسے کوئی شخص جہاز میں سفر کرکے مدینہ منورہ جاتا ہے، تو جہاز میں سوار ہونا ضرورت ہے، جبکہ مدینہ جانا اصل مقصد ہے، کوئی بھی مدینہ جانے پر یہ سوال نہیں کرتا کہ اس کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ مدینہ جانا بذاتِ خود ایک مقصد ہے۔
اسی طرح انسان کی تخلیق بھی کسی ضرورت کے تحت نہیں ہوئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید کی سورۂ ذاریات (آیت: 56) میں واضح فرمایا: "میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے"یہی مضمون ایک ضعیف روایت میں بھی ہےکہ "اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا،میں نے چاہا کہ میں پہچاناجاؤں ( تو اپنی پہچان کرانے کے لیے) میں نے مخلوق کو پیدا کیا ، (چنانچہ جب مخلوق کو پیدا کیا)تو انہوں نے مجھے پہچان لیا"لہٰذا ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ ہمیں کسی ضرورت کے لیے نہیں، بلکہ ایک واضح مقصد (عبادتِ الٰہی) کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے ہماری توجہ بھی اسی مقصد کی طرف ہونی چاہیے تاکہ وہ فوت نہ ہو جائے۔
قرآن مجیدمیں ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56)﴾
ترجمہ:اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں ۔(بیان القرآن)
كشف الخفاءللعجلونى میں ہے:
" كنت كنزا لا أعرف، فأحببت أن أعرف، فخلقت خلقا، فعرفتهم بي فعرفوني.
وقال القاري لكن معناه صحيح مستفاد من قوله تعالى … (وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون) … أي ليعرفوني كما فسره ابن عباس رضي الله عنهما."
(حرف الكاف، رقم:2016، ج:2، ص:132، ط: مكتبة القدسي)
الاربعون للنوویہ میں ہے:
"عن أبي ذر الغفاري رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله تعالى عليه وآله وسلم فيما يرويه عن ربه عز وجل أنه قال يا عبادي، إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرماً فلا تظالموا،يا عبادي، كلكم ضال إلا من هديته فاستهدوني أهدكم، يا عبادي، كلكم جائع إلا من أطعمته فاستطعموني أطعمكم، يا عبادي، كلكم عار إلا من كسوته فاستكسوني أكسكم: يا عبادي، إنكم تخطئون بالليل والنهار وأنا أغفر الذنوب جميعاً فاستغفروني أغفر لكم، ياعبادي، إنكم لن تبلغوا ضري فتضروني ولن تبلغوا نفعي فتنفعوني، يا عبادي، لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أتقى قلب رجل واحد منكم ما زاد ذلك في ملكي شيئاً:يا عبادي، لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أفجر قلب رجل واحد منكم ما نقص ذلك من ملكي شيئاً: يا عبادي، لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم قاموا في صعيد واحد فسألوني فأعطيت كل واحد مسألته ما نقص ذلك مما عندي إلا كما ينقص المخيط إذا أدخل البحر، يا عبادي، إنما هي أعمالكم أحصيها لكم ثم أوفيكم إياها فمن وجد خيراً فليحمد الله ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه.رواه مسلم."
ترجمہ:حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ اپنے ربّ عزّوجلّ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیاہے،اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، پس تم مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلا دوں، پس تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلا دوں گا۔اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، پس تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔اے میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو، اور میں تمام گناہ معاف کرتا ہوں، پس تم مجھ سے مغفرت مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔اے میرے بندو! تم ہرگز اس قابل نہیں کہ مجھے نقصان پہنچا سکو کہ مجھے نقصان ہو، اور نہ ہی اس قابل ہو کہ مجھے نفع پہنچا سکو کہ مجھے نفع ہو۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، اور تمام انسان اور تمام جن، تم میں سے ایک سب سے زیادہ متقی شخص کے دل کی طرح ہو جائیں، تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہ ہوگا۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، اور تمام انسان اور تمام جن، تم میں سے ایک سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل کی طرح ہو جائیں، تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، اور تمام انسان اور تمام جن، ایک میدان میں جمع ہو جائیں، پھر سب مجھ سے مانگیں، اور میں ہر ایک کو اس کا سوال عطا کر دوں، تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہ ہوگی جتنی سمندر میں سوئی ڈالنے سے ہوتی ہے۔اے میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں، میں انہیں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں، پھر تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دیتا ہوں، پس جو بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے، اور جو اس کے سوا کچھ پائے وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔
(الحديث الرابع والعشرون، ص:79، ط:دار المنهاج للنشر والتوزيع، لبنان - بيروت)
تفسیرکبیر میں ہے:
"المسألة الثالثة: فعل الله تعالى ليس لغرض وإلا لكان بالغرض مستكملا وهو في نفسه كامل فكيف يفهم لأمر الله الغرض والعلة؟ نقول المعتزلة تمسكوا به، وقالوا أفعال الله تعالى لأغراض وبالغوا في الإنكار على منكري ذلك."
(سورة الذاريات، آية:56، ج:28، ص:193، ط: دار إحياءالتراث العربي)
روح المعانی ميں ہے:
"في البحر برواية ابن عباس عن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم «وما خلقت الجن والإنس من المؤمنين» ورواها بعضهم قراءة لابن عباس رضي الله تعالى عنهما
، ومن الناس من جعلها للجنس، وقال: يكفي في ثبوت الحكم له ثبوته لبعض أفراده وهو هنا المؤمنين الطائعون وهو في المآل متحد مع سابقه، ولا إشكال على ذلك في جعل اللام للغاية المطلوبة حقيقة وكذا في جعلها للغرض عند من يجوز تعليل أفعاله تعالى بالأغراض مع بقاء الغنى الذاتي وعدم الاستكمال بالغير."
(سورة الذاريات، آية:56، ج:14، ص:66، ط:دار اكتب العلمية)
شرح العقیدۃ الطحاویۃ (حکیم الاسلام قاری محمدطیب)میں ہے:
"ولماكان الله جل ذكره غنياّمطلاقاّوالخلق محتاجاّإليه وجوداّودعدماّ، فيمتنع أن يحتاج الغني المطلق إلي المحتاج المطلق،في حاجته وغرضه ،وإلالزم إجتماع الضدين وهومحال."
(ص:126، ط: مكتبه قاسم العلوم)
العصيدۃ السماویۃ شرح العقیدۃ الطحاویہ(لمفتی رضاءالحق) میں ہے:
انسان جب کسی چیزکوبناتاہے تواس سے اس کی ضرورت ہوتی ہے یاپھراس سے اس کی اغراض وابستہ ہوتی ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بے نیاز ذات کونہ تواس کائنات کی ضرورت ہےاور نہ ہی اس کی تخلیق سے کوئی غرض وابستہ ہے . . . . . . . اور یہ بات عقلاًبھی محال ہے کہ غنی مطلق محتاج مطلق کامحتاج ہو۔
(ج:1، ص:231، ط:زمزم پبلیشرز)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101312
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن