بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بنایا جس کی واپسی نہ ہو سے طلاق کا حکم


سوال

میرے شوہر سے ایک بحث کے دوران میں نے کہا: "آپ تو اب میرے ساتھ پھنس گئے ہیں" تو انہوں نے جواباًً کہا: "اللہ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بنایا جس کی واپسی نہ ہو" میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے الفاظ سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کےشوہر کے الفاظ "اللہ نے کوئی ایسا راستہ نہیں بنایا جس کی واپسی نہ ہو" طلاق کے الفاظ نہیں ہیں اورنہ ہی طلا ق کا احتمال رکھتےہیں، بلکہ ایک عمومی بات ہے،لہٰذا ان الفاظ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"اتفق الفقهاء  على أن الصريح في الطلاق هو ما لم يستعمل إلا فيه غالبا، لغة أو عرفا۔۔۔۔۔كما اتفقوا على أن الكنائي في الطلاق هو ما لم يوضع اللفظ له، واحتمله وغيره، فإذا لم يحتمله أصلا لم يكن كناية، وكان لغوا لم يقع به شيء."

(حرف الطاء، طلاق، أنواع الطلاق،‌‌ أولا الصريح والكنائي، ج: 29، ص: 26، ط: دار الصفوة مصر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701100645

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں