بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

علی نام عبد کی اضافت کے بغیر رکھنا جائز ہے


سوال

کیا علی اللہ تبارک و تعالیٰ کا صفاتی نام ہے ، میرا استدلال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت علی رضہ اللہ تعالیٰ کے نام کے آگے عبد لگا کر عبد العلی فرما دیتے جیسے کہ عبد الرحمٰن یا عبد الرحیم وغیرہ ۔ میری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے  صفاتی ناموں کی دو قسمیں ہیں:

ایک  وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، جو قرآن و حدیث میں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور غیراللہ کے لیے ان کا استعمال ثابت نہیں ہیں،   ان ناموں کو عبد کی اضافت کے بغیر رکھنا جائز نہیں ہے۔

دوسرے  وہ صفاتی نام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ہیں، وہ  نام ”عبد “ اضافت کے بغیر بھی رکھے جاسکتے ہیں۔

صورتِ مسئولہ میں"علی"  نام دوسری قسم میں داخل ہے، لہذا یہ نام بغیر عبد کی اضافت کے بھی رکھا جاسکتا ہے۔ 

الدر المختار میں ہے:

"(أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد ‌الرحمن) وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية."

"قوله وجاز التسمية بعلي إلخ) الذي في التتارخانية عن السراجية التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة إلخ، ومثله في المنح عنها وظاهره الجواز ولو معرفا بأل.

(قوله لكن التسمية إلخ) قال أبو الليث: لا أحب للعجم أن يسموا عبد ‌الرحمن وعبد الرحيم؛ لأنهم لا يعرفون تفسيره، ويسمونه بالتصغير تتارخانية وهذا مشتهر في زماننا، حيث ينادون من اسمه عبد الرحيم وعبد الكريم أو عبد العزيز مثلا فيقولون: رحيم وكريم وعزيز بتشديد ياء التصغير."

(كتاب الحظر والاباحة، ج:6، ص:417، ط:سعيد)

معارف القرآن میں ہے:

"اسماء الہیہ میں تحریف یا کجروی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں وہ سب اس آیت کے مضمون میں داخل ہیں: اول یہ کہ اللہ تعالی کے لئے وہ نام استعمال کیا جائے جو قرآن و حدیث میں اللہ تعالی کے لئے ثابت نہیں، علماء حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالی کے نام اور صفات میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ جو چاہے نام رکھ دے یا جس صفت کے ساتھ چاہے اس کی حمد و ثنا کرے، بلکہ صرف وہی الفاظ ہونا ضروری ہیں جو قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کے لئے بطور نام یا صفت کے ذکر کئے گئے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کو "کریم" کہہ سکتے ہیں "سخی" نہیں کہہ سکتے ، "نور" کہہ سکتے ہیں "ابیض"نہیں کہہ سکتے ، "شافی" کہہ سکتے ہیں "طبیب" نہیں کہہ سکتے ، کیونکہ یہ دوسرے الفاظ منقول نہیں اگر چہ انہی الفاظ کے ہم معنی ہیں ۔۔۔۔

 تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص ناموں کو  دوسرے شخص کے لئے استعمال کرے ، مگر اس میں تفصیل ہے کہ اسماء حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لئے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں، تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لئے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لئے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، جیسے: رحیم، رشید،علی، کریم، عزیز و غیرہ، اور اسماء حسنی میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ان کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا الحاد مذکور میں داخل اور ناجائز و حرام ہے، مثلاً رحمن، سبحان، رزاق، خالق ، غفار، قدوس و غیره۔"

(سورۃ الاعراف، ج: 4، ص: 131،132، ط: مکتبہ معارف القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100185

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں