
میری بیوی سےدودن سے میری لڑائی ہورہی تھی ، اس نے مجھے گندی گالیاں دی ، پہلے بھی اس نے مجھے کئی بار خلع لینے کی دھمکی دی ہے ، تو میں نے غصے میں بولاکہ" آپ کاغذات منگوالو (مطلب عدالت سے )اور بولاکہ اپنی والدہ کو بھی بلالو"، طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کئے ہیں ، کیا اس سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے اپنی بیوی سے جھگڑے میں محض یہ کہا ہے کہ :"آپ کاغذات منگوالو (مطلب عدالت سے )اور اپنی والدہ کو بھی بلالو"تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ۔
البتہ اگر بیوی کا موقف کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کے بعد دوبارہ دریافت کرلیا جائے۔
البحر الرائق میں ہے:
"فالحد الصحيح قولنا رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص فخرج بقيد النكاح الحسي، والعتق وباللفظ المخصوص الفسخ لأن المراد به ما اشتمل على مادة الطلاق صريحا وكناية وسائر الكنايات الرجعية، والبائنة ولفظ الخلع ......ركنه اللفظ المخصوص الدال على رفع القيد فكان ينبغي أن يعرفوه به فإن حقيقة الشيء ركنه فعلى هذا هو لفظ دال على رفع قيد النكاح."
(كتاب الطلاق ، ج:3، ص:252، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102315
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن