بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پرفیوم میں الکحل شامل ہوتو اس کو بیچنا جائز ہے یا نہیں / جمعہ کی اذان اول کے بعد مسجد کے دروازے پر عطر فروخت کرنا


سوال

میں عطر کا کاروبار کرتاہوں ،اس متعلق کچھ سوال ہیں:

1۔گنے کا الکحل پرفیوم میں استعمال کرنا درست ہے یا نہیں ؟اس کی کمائی حلال ہوگی یا نہیں؟

2۔جس پرفیوم کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ اس میں کس قسم کا الکحل ملا ہے ،کھجور کا ہے یا کسی اور چیز کا تو اس کا استعمال کرنا یا بیچنا کیسا ہے؟

3۔جمعہ کے دن اذان اول کے بعد کاروبار بندکرنے کا حکم ہے تو اگر کوئی مسجد کے باہر گیٹ پر عطر بیچ رہاہو اور خطبہ جمعہ سے پہلے آسانی سے نماز کے لئے پہنچ سکتاہو تو اس کے لئے ممانعت ہے یا نہیں؟

جواب

1۔گنے سے حاصل شدہ الکحل کو پرفیوم میں ملانا درست ہے، اس کا کاروبار درست ہے اور حاصل ہونے والی کمائی حلال ہے۔

2۔الکحل کی متعدد قسمیں ہیں:

  1.  ایک وہ جو منقیٰ، انگور،کشمش یا کھجور کی شراب سےحاصل کی گئی ہو،  یہ بالاتفاق ناپاک  وحرام ہے، اس کا استعمال اور اس کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔
  2. دوسری  وہ جو مذکورہ  بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہو۔
  3. آج کل الکحل کی ایک تیسری قسم بھی ہے، یعنی وہ کیمیکل سے بنایا جاتا ہے، اس کا شراب وغیرہ سے تعلق نہیں ہے۔

موجودہ دور میں جو الکحل پرفیومزمیں  استعمال ہوتی ہے، وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ  دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، یہ نجس نہیں، بلکہ پاک ہےاور اس کا کاروبار درست ہے۔

نیز  کسی پرفیوم کے بارے میں جب تک  تحقیق سے ثابت  نہ ہوجائے کہ اس  میں  پہلی قسم (منقیٰ، انگور،کشمش یا کھجور کی شراب )سے حاصل شدہ الکحل ہے، اس وقت تک اس کے استعمال کو  ناجائز اور حرام نہیں کہہ سکتے۔البتہ  اگر کسی وجہ سے ممنوعہ ’’الکحل‘‘  کے شامل ہونے کا شک ہو تو احتیاط بہترہے۔

3۔جمعہ کی  پہلی اذان کے بعد کاروبار ممنوع ہے چاہے مسجد کے دروازے پر ہو۔

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوی اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخری، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلی حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخرى ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخرى، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الكحول التي تستعمل اليوم في الأدوية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع".

(کتاب الاشربۃ ،حکم الکحول المسکرۃ،ج:3،ص:408،دارالعلوم)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"قوله: وإذا أذن المؤذن يوم الجمعة الأذان الأول ترك الناس البيع والشراء وتوجهوا إلى الجمعة) قدم ذكر البيع على ذكر الشراء؛ لأن الإيجاب مقدم على القبول والمراد من البيع والشراء ما يشغلهم عن السعي حتى إنه إذا اشتغل بعمل آخر سواه يكره أيضا ولا يكره البيع والشراء في حالة السعي إذا لم يشغله."

(باب صلاة الجمعة، 92/1، المكتبة الخيرية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ووجب سعي إليها وترك البيع) ولو مع السعي، في المسجد أعظم وزرا (بالأذان الأول) في الأصح .... وفی الرد: (قوله وترك البيع) أراد به كل عمل ينافي السعي وخصه اتباعا للآية نهر (قوله: ولو مع السعي) صرح في السراج بعدم الكراهة إذا لم يشغله بحر وينبغي التعويل على الأول نهر."

( كتاب الصلاة، باب الجمعة،161/2، سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں