بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تنہا ہونے کی صورت میں صرف انڈروئیر پہن کررہنا


سوال

میں کمرے میں اکیلا رہ رہا ہوں، تو انڈر ویئر میں رہ سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لئےتنہا ہونے کی صورت میں  بھی صرف انڈرویئرپہن کر رہنا حیاواخلاق کے منافی ہونے کی وجہ سےشرعاًمکروہ ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن جرهد: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أما ‌علمت ‌أن ‌الفخذ ‌عورة» . رواه الترمذي وأبو داود"

 (‌‌كتاب النكاح، ‌‌باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات، ‌‌الفصل الثاني،  رقم:3112، ج:2، ص:933، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:”حضرت جرہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ   جنابِ نبی کریم  ﷺ  نے فرمایا:کیاتجھےمعلوم نہیں کہ ران ستر ہے؟“

وفيھا ایضا:

"وعن بھز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌احفظ ‌عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك» فقلت:يا رسول الله أفرأيت إن كان الرجل خاليا؟ قال: «فالله أحق أن يستحيى منه». رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه"

 (‌‌كتاب النكاح، ‌‌باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات، ‌‌الفصل الثاني،  رقم:3117، ج:2، ص:934، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:”حضرت بہز نے اپنے والد حکیم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور حکیم نے اپنے والد معاویہ بن حیدہ  رضٰ اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ستر کو ڈھانپ کر رکھو سوائے اپنی بیوی اور باندی کے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میں تنہائی میں ہوں تو وہاں ڈھانپنے کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے شرم کرنے کا زیادہ حق ہے۔ یہ ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ کی روایت ہے۔“

(کتاب النکاح،  ‌‌باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات،  ج:3، ص:287، ط:مکتبۃ العلم)

مجمع الانہر  في شرح ملتقی الابحر  میں ہے:

''(وينظر الرجل من الرجل إلى ما سوى العورة وقد بينت في الصلاة) أن العورة ما بين السرة إلى الركبة والسرة ليست بعورة ۔۔۔ (و) من (الرجل إلى ما ينظر الرجل من الرجل) أي إلى ما سوى العورة (إن أمنت الشهوة) وذلك؛ لأن ما ليس بعورة لا يختلف فيه النساء والرجال، فكان لها أن تنظر منه ما ليس بعورة، وإن كانت في قلبها شهوة أو في أكبر رأيها أنها تشتهي أو شكت في ذلك يستحب لها أن تغض بصرها، ولو كان الرجل هو الناظر إلى ما يجوز له النظر منها كالوجه والكف لا ينظر إليه حتماً مع الخوف."

‌‌(كتاب الكراهية، فصل في بيان أحكام النظر ونحوه، ج:2، ص:539/538، ط:دار الطباعة العامرة بتركيا)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

”سوال)رات کو ایک آدمی بالکل برہنہ ہوکر سوتا ہے، یہ عادت کیسی ہے؟

جواب)بالکل ننگا ہو کر سونا مکروہ ہے۔“

(باب الحجاب، ج:19، ص:254، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں