بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اخبارات اور رسائل میں قرآنی آیات کا لکھنا


سوال

1۔اخبارات اور رسائل میں قرآن پا ک کی آیات کا لکھنا کیسا ہے؟ جبکہ قرآن پاک کی آیات کی شدید بے ادبی ہوتی ہے گھروں و دفاتر میں اخبارات ڈالنے والے پھینک کر اخبارات ڈالتے ہیں اور لوگ بے وضو آیات کو چھوتے ہیں جبکہ بعد میں وہ اخبارات ردی میں فروخت ہوتے ہیں کیا یہ عمل درست ہے؟

2 کس طرح اخبارات میں آیات کی بے ادبی سے بچاجاسکتاہے ؟نیز دفاتر مالکان اور اخبارات جاری کرنے والوں او ر عامۃ المسلمین کی کیا ذمہ داری ہےکہ جس سے  اخبارات میں قرآنی آیات کی بے ادبی کا تدارک کیا جاسکے؟

جواب

1۔قرآن مجید  کی آیات کا ایسی جگہ پر لکھنا کہ جہاں بے ادبی اور بے احترامی کاغالب گمان ہو ، جائز نہیں ہے۔لہذا وہ اخبارات اور رسائل جن کو استعمال کے بعد عموما لوگ پھینک دیتے ہیں،یا ردی میں فروخت کرتے ہیں،یا اور کسی ایسے کام میں استعمال کرتے ہیں جس سے قرآنی آیات کے بےادبی و بے احترامی ہوتی ہے،تو ایسے اخبارات میں قرآن مجید کی آیات  نہیں لکھنی چاہئیں۔

فتح القدیر میں ہے:

"تكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران ‌وما ‌يفرش."

( کتاب الطهارة، باب الحيض والإستحاضة، ج: 1، ص: 169، ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے :

"وقدمنا قبيل باب المياه عن الفتح أنه تكره كتابة القرآن وأسماء الله - تعالى - على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت فتأمل، نعم نقل بعض المحشين عن فوائد الشرجي أن مما يكتب على جبهة الميت بغير مداد بالأصبع المسبحة - بسم الله الرحمن الرحيم - وعلى الصدر لا إله إلا الله محمد رسول الله، وذلك بعد الغسل قبل التكفين اهـ والله أعلم."

(كتاب الصلاة ،باب صلاة الجنازة،2/ 246،ط:سعید)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"ولو كتب القرآن على الحيطان والجدران بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، وبعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوى قاضي خان.

 ‌كتابة ‌القرآن على ما يفترش ويبسط مكروهة، كذا في الغرائب."

(كتاب الكراهية،الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن،5/ 323،ط:دار الفکر)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

’’اخبارات میں قرآن کریم کی آیات کا متن چھاپنا واقعی بے ادبی ہے،اگر حوالہ کی ضرورت ہو توترجمہ دیا جائے ،اگرچہ ترجمہ بھی لائق ادب ہے،مگر اس کے احکام قرآن کریم کے متن کے نہیں  اور جہاں تک ممکن ہو ایسے اوراق کا ادب ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔‘‘

(ج:4۔ص:445۔ط:مکتبہ لدھیانوی)

2۔آیاتِ قرآنیہ  کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے، ایسے اخبارات ورسائل میں جہاں آیات  ِ قرآنیہ  درج ہو ں اس کا خیال رکھا جائے کہ کسی طرح سے اس کی بے حرمتی نہ ہو، انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر گڑھا کھود کر ایسی جگہ دفن کیا جائے جو قدموں سے روندی نہ جاتی ہو،  یا انہیں کسی تھیلے وغیرہ میں ڈال کر ان کے ساتھ وزن باندھ کر سمندر یا دریا برد کردیا جائے، یہ ایک اسلامی فریضہ ہے، جسے ہر مسلمان کو پورا کرنا چاہیے،اگر کوئی خود نہ کرسکتا ہو تو کسی ایسے معتمد ادارے کے حوالے کردے جو مذکورہ طریقہ کار پر عمل درآمد کرتا ہو۔

ایسے اخبارات اور رسائل کو  کو ردی میں بیچ  دینا،یا ایسی جگہ استعمال کرنا  جہاں ان کی بے حرمتی لازم آتی ہو،ناجائز ہے،البتہ اگران اخبارات میں سے  قرآنی آیات ، احادیث اور  مقدس اَسماء  کو  نکال کر باقی اخبارات کو فروخت  کیا جائے تو یہ جائز ہے ۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولو محا لوحا كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز، وقد ورد النهي عن محو اسم الله تعالى بالبزاق، كذا في الغرائب. ومحو بعض الكتابة بالريق يجوز، كذا في القنية."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج:5، ص:322، ط: دار الفكر)

فتاویٰ  شامی میں ہے:

"والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اهـ."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع، 6/ 422، ط: سعید)

فتاویٰ  عالمگیریہ  میں ہے:

"المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب.

المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة."

(كتاب الكراهية،الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن،5/ 323، ط: ماجدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100577

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں