بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

محارم کے ساتھ ایک بستر پر لیٹنا


سوال

میرے بہنوئی اپنی جوان بھانجی کو اپنے پاس سلاتے ہیں اور وہ بھی بعض اوقات خود ان کے پاس آکر لیٹ جاتی ہے، مگر رات کو نہیں دن کے ٹائم میں، اگر وہ گھر پر ہوں تو وہ دونوں ایک ہی چارپائی پر لیٹ جاتے ہیں اور بظاہر یہی دکھاتے ہیں کہ ویسے ہی لیٹتے ہیں،  مگر مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی ۔ کیا شرعی لحاظ سے یہ ٹھیک ہے؟ اگر نہیں تو  میں اپنے بہنوئی سے کس طرح بات کروں کہ وہ یہ کام نہ کیا کریں کیوں کہ ان کو اگر یہ بات کی گئی تو وہ غصہ ہو جائیں گے وہ اپنی بھانجی سے بہت پیار کرتے ہیں؟

جواب

احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺنے بچوں بچیوں سے متعلق یہ ہدایت ارشاد فرمائی ہے کہ جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے بستر جدا جدا کردیے جائیں، جیساکہ مشکوۃ شریف کی روایت میں ہے:

" قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْه وَسَلَّمَ: مُرُوْا أَوْلَادَ کُمْ بِالصَّلاةِ وَهُمْ أَبْنَآءُ سَبْعِ سِنِیْنَ، وَاضْرِبُوْ هُمْ عَلَیْهَا وَ هُمْ أبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ، وَ فَرِّ قَوْ ا بَیْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ. رَوَاه أبُوْدَاؤدَ".

ترجمہ:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے بچے سات برس کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس برس کے ہو جائیں (تو نماز چھوڑ نے پر ) انہیں مارو۔  نیز ان کے بسترے علیحدہ کردو (ابوداؤد) ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اس عمر کے دو بہن بھائیوں کا ایک بستر پر اکٹھا ہونا درست نہیں، تو دیگر محارم رشتوں میں اس چیز کا بدرجہ اولیٰ خیال رکھنا چاہیے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں ماموں کا جوان بھانجی کے ساتھ  ایک بستر پر لیٹنا خواہ دن کے وقت میں ہو،  ہرگز مناسب نہیں ہے، نیز اس طرح لیٹنا مفاسد کا پیش خیمہ بن سکتاہے۔ مذکورہ شخص کو  درج بالا حدیث اور شرعی احکامات سے آگاہ کرکے حکمت و بصیرت کے ساتھ یہ بات سمجھادینی چاہیے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے