بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

یکطرفہ خلع کی بنیاد پر نکاح اورتین طلاق کا حکم


سوال

ایک خاتون کا ایک مرد سے نکاح ہوا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ مزاج میں عدم موافقت کی وجہ سے خاتون کے اہلِ خانہ نے مرد کے اہلِ خانہ سے طلاق کا مطالبہ کیا۔ مرد کے خاندان نے طلاق دینے سے انکار کردیا، تو خاتون نے عدالت سے رجوع کیا اور خلع حاصل کر لی، حالانکہ مرد نے نہ طلاق دی، نہ عدالت میں پیش ہوا، نہ کسی طلاق نامے پر دستخط کیے، اور نہ ہی اس فیصلے سے راضی ہوا۔

خلع لینے کے بعد خاتون نے دوسری شادی کر لی، حالانکہ پہلا شوہر زندہ تھا۔ چند وجوہات کی بنا پر، چھ ماہ بعد دوسرے شوہر نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔

اب تقریباً پانچ ماہ قبل، خاتون کا پہلا شوہر انتقال کر گیا ہے، اور اس خاتون کا دوسرا سابق شوہر اس سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اب ان دونوں کے لیے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ خلع دیگر عقودِ  مالیہ کی طرح ایک عقدِ مالی ہے، جس میں بیوی اپنے مہر کے عوض شوہر کے نکاح سے خلاصی حاصل کرتی ہے،  پس جس طرح   دیگر عقودِ  مالیہ میں عاقدین یا ان کے وکلاء کی جانب سے ایجاب و قبول شرعاً  ضروری ہوتا ہے،  بالکل اسی طرح  میاں و بیوی یا ان کے وکلاء کی جانب سے خلع میں ایجاب و قبول شرعاً ضروری ہوتا ہے، پس اگر کسی ایک جانب سے قبول نہ پایا جائے تو شرعاً   خلع واقع نہیں ہوئی۔

لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً محض مزاج میں عدم موافقت کی وجہ سے عورت نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا، اور خلع کی ڈگری حاصل کی جب کہ شوہر نے نہ خلع کو قبول کیا، نہ وہ عدالت میں حاضر ہوا اور نہ ہی ڈگری پر دستخط کیے ہیں تو اس بناء پر دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا تھا ، اور عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی  شرعاًگنجائش نہیں تھی۔ اس لیے مذکورہ عورت کا دوسرا  نکاح شرعی طور پر منعقد ہی نہیں ہوا تھا، دوسرے مرد کے ساتھ جتنا عرصہ رہی ہے وہ شرعاً حرام اور ناجائز تھا۔

لہذا جتنا عرصہ رہے، اس پر توبہ و استغفارکریں اور جب دوسرے مرد  نے تین طلاقیں دی ہے، تو ان کا بھی شرعاً اعتبار نہ ہوگا؛ کیوں کہ نکاح ہی نہیں ہوا تھا۔

پہلے شوہر کے انتقال کے بعد اگر چار ماہ دس دن گزر گئے ہوں تو مذکورہ عورت کے لیے دوسرے مرد سے نکاح کی اجازت ہوگی۔

تاہم مذکورہ عورت کو یا مذکورہ مرد کو یہ استفتاء اپنے نکاح سے قبل کرنا چاہیئے تھا، اس  وقت شرعی مسئلہ دریافت کیے بغیر نکاح کر لینا درست عمل نہیں تھا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية: لايتم الخلع ما لم يقبل بعده".

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج : 3 ص: 440، ط : سعید )

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول". 

(کتاب الطلاق، فصل فی شرائط  رکن الطلاق، ج : 3 ص : 145، ط : رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101128

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں