
ہمارا ایک پلاٹ تھا، جس کا کچھ کام کروانا تھا، مثلاً اس کی فائل وغیر ہ بنوانا، تو ایک شخص نے ہمیں کہا کہ اس پلاٹ کا سارا کام میں آپ کو کروا کر دوں گا، آپ مجھے اتنی رقم دے دو، اگر میں نے ایک مہینے کے اندر آپ کا کام کروا کر نہیں دیا، تو آپ کے پیسے واپس کر دوں گا، لیکن اس نے ایک ماہ کے اندر کام کروا کر نہیں دیا، بلکہ ڈھائی سال گزر گئے ہیں ابھی تک اس نے کام نہیں کروایا، اب وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے آپ کے پیسے کسی اور کو دیے ہوئے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے پیسے واپس کرنا کس پر لازم ہیں،اس شخص پر جس سے ہمارا معاہدہ ہوا تھا یا اس نے آگے جس شخص کو پیسے دیے تھےاس پر؟جب کہ ہمارا کام ابھی تک نہیں ہوا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے جب یہ معاہدہ کیا تھا کہ میں آپ کو اس پلاٹ کا کام ایک مہینے میں کروا کر دوں گا،اور اگر ایک مہینے کے اندر آپ کا کام نہیں کروایا تو آپ کے پیسے واپس کر دوں گا،تو ایسی صورت میں اس پر لازم تھا کہ وہ ایک ماہ میں پلاٹ کے کاغذات سے متعلق طے شدہ کام کروا دیتا، لیکن ڈھائی سال گزر جانے کے بعد بھی جب اس نے پلاٹ کا کام نہیں کروا کر دیا ، تو اب سائل کی جانب سے دی گئی رقم واپس کرنا اسی شخص پر لازم ہے، جس نے یہ معاہدہ کیا تھا، اور جس شخص کو اس نے آگے پیسے دیے ہیں اس سے وہ خو د واپس لینے کا ذمہ دار ہو گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"قالوا الأجير المشترك من يستحق الأجر بالعمل لا بتسليم نفسه للعمل ."
(کتاب الاجارۃ، ج:4، ص:500، ط:دارالفکر)
وفیہ ایضاً:
"ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه."
(کتاب الاجارۃ، ج:4، ص:413، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102069
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن