
میں اپنے ماموں کے ساتھ کام کرتا تھا،سارا سرمایہ ماموں کا تھا، مجھے کام کی وجہ سے ٪25 فیصد منافع ملتے تھے،اور ٪75 منافع ماموں لیتے تھے، ماموں کی حیات میں میں نے کام کیاتھا، اس کے پیسے ملنے سے پہلے ہی ماموں کا انتقال ہوگیاتھا،اور یہ رقم تقریبا 80 لاکھ روپے بنتی ہے۔
اب ماموں کے ورثاء مجھے میرا حق نہیں دے رہے اور کہہ رہے ہیں کہ جاؤ بابا کی قبر پر سے مانگو!تو کیا ان پر میرا حق دینا شرعا لازم نہیں ہے؟ میں نے ان کو قسم دی تھی کہ میرا حق دے دو !تو کیا میں اس کے بعد اپنا حق طلب کرسکتا ہوں؟
وضاحت:
سائل کے ماموں ٹھیکے دار تھے،روڈ ٹھیکہ پر لے کر اس کو بنواتے تھے، جس میں سارا سرمایہ ماموں کا ہوتا تھا(مشین گری،مال، میٹریل)،میں ان کے ساتھ اس معاہدے کے تحت کام کرتا تھا کہ روڈ بننے کے بعد سارا خرچہ نکالنے کے بعد جو نفع ہوگا اس میں 25 فیصد میرا ہوگا اور 75 فیصد ماموں کا ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں، سائل اپنے ماموں کا اجیر (ملازم) تھا، اور شرعاً اجارہ کے معاملہ میں اجرت کارقم کی صورت میں متعین ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اجرت متعین نہ ہو تو ایسا اجارہ فاسد شمار ہوتا ہے۔
لہٰذا زیر نظر مسئلہ میں بھی چونکہ سائل اور ماموں کے درمیان ہونے والے عقدِ اجارہ میں اجرت رقم کی صورت میں متعین نہیں تھی، بلکہ شرح فیصد کے اعتبار سے طے کی گئی جو کہ مجہول کے حکم میں تھی، اس لیے یہ اجارہ فاسد قرار پائے گا۔
اور اجارہ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اجیر (کام کرنے والا) کو اجرتِ مِثل دی جائے — یعنی بازار کے عرف میں اس نوعیت کے کام کی جو مناسب اجرت ہوتی ہے، وہ ادا کی جائے۔
پس جب ماموں نے اپنی زندگی میں سائل کو اس کی محنت کا معاوضہ نہیں دیا، تو شرعاً یہ رقم ماموں کے ذمے قرض بن گئی، اور اب ان کے ورثاء پر لازم ہے کہ میت کے ترکہ میں سے سائل کو اس کا حق (اجرتِ مثل) ادا کریں، ورنہ بصورتِ دیگر، یہ حق قیامت کے دن میت کے نامۂ اعمال میں قرض کے طور پر باقی رہے گا ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة"
"(قوله وشرطها إلخ) هذا على أنواع: بعضها شرط الانعقاد، وبعضها شرط النفاذ، وبعضها شرط الصحة، وبعضها شرط اللزوم، وتفصيلها مستوفى في البدائع ولخصه ط عن الهندية (قوله كون الأجرة والمنفعة معلومتين)أما الأول فكقوله بكذا دراهم أو دنانيروينصرف إلى غالب نقد البلد، فلو الغلبة مختلفة فسدت الإجارة ما لم يبين نقدا منها"
(کتاب الاجارۃ،شروط الاجارۃ، ج:6، ص:5، ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"(الفاسد) من العقود (ما كان مشروعاً بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعاً أصلاً) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل الاستعمال) لو المسمى معلوماً، ابن كمال.
(قوله: وجوب أجر المثل) أي أجر شخص مماثل له في ذلك العمل، والاعتبار فيه لزمان الاستئجار ومكانه من جنس الدراهم والدنانير لا من جنس المسمى لو كان غيرهما، ولو اختلف أجر المثل بين الناس فالوسط والأجر يطيب وإن كان السبب حراماً، كما في المنية قهستاني، ونقل في المنح أن شمس الأئمة الحلواني قال: تطيب الأجرة في الأجرة الفاسدة إذا كان أجر المثل، وذكر في المسألة قولين وأحدهما أصح فراجع نسخة صحيحة... (قوله: لو المسمى معلوماً) هذا إنما يصح لو زاد المصنف لايتجاوز به المسمى، كما فعل ابن الكمال تبعاً للهداية والكنز، فكان على الشارح أن يقول: إذا لم يكن مسمى أو لم يكن معلوماً؛ لأن وجوب أجر المثل بالغاً ما بلغ على ما أطلقه المصنف إنما يجب في هذين الصورتين أما لو علمت التسمية فلايزاد على المسمى، كما يأتي".
(کتاب الاجارۃ،باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:45، ط:سعید)
الدرالمختار میں ہے:
"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل".
(کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، ص:579، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701102031
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن