بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 صفر 1448ھ 02 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

اجیر خاص سے مقررہ اوقات سے زائد کام لینے کا حکم اور چھٹی کی صورت میں تنخواہ کٹوتی کا حکم


سوال

ایک ادارے میں تین چوکیدار ہیں، اور ہر ایک کی ڈیوٹی آٹھ آٹھ گھنٹے مقرر ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک چھٹی کرلے تو اس کی جگہ باقی دو چوکیداروں سے بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ تاہم ان اضافی چار چار گھنٹوں کی کوئی اضافی اجرت انہیں نہیں دی جاتی، حالانکہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اضافی وقت کام کرنے کی وجہ سے انہیں اس کے مطابق اضافی تنخواہ بھی دی جائے۔

نیز اگر ان تینوں چوکیداروں میں سے کوئی چھٹی کرلے تو اس کی تنخواہ میں سے اس دن کی کٹوتی بھی کرلی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ باقی دو چوکیداروں سے بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی ان کی رضامندی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت لی جاتی ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ دونوں صورتوں کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

کسی بھی ادارے کا ملاز م اجیر خاص ہوتا ہے وہ مقررہ وقت تک ادارہ کا ملازم ہوتا  ہے  مقررہ وقت  ختم ہوجانے کے بعد اس کو کام پر مجبور کرنا اور اس سے  بلا معاوضہ کام لینا جائز نہیں ہے ، کیونکہ مقررہ وقت سے اضافی وقت سے زیادہ کام کرنا ملازم کے طرف سے احسان ہے ، اضافی کام پر ملازم کو مجبور نہیں کرسکتے ہیں ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر  ادارہ  ملازم کی  رضامندی کے بغیر اس  سے دوسرے غیر حاضر ملازم کے جگہ ڈیوٹی لیتا ہے تو ادارہ کا اس کو مجبور کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ادارہ کو چاہئے کہ اس کو اضافی وقت کی ڈیوٹی  رضامندی سے لےاور اس کو اضافی وقت کا معاوضہ  بھی دے ۔

 واضح رہے کہ  اگر ادارے کا یہ ضابطہ ہے کہ ملازم کی غیر حاضری پر اس دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی تو  اس کا یہ ضابطہ صحیح  ہے، البتہ اگر ادارے نے ضابطہ کے مطابق استحقاقی چھٹیاں رکھی ہوں، تو استحقاقی چھٹی کرنے پر ملازم کی تنخواہ کاٹنا وعدہ خلافی ہوگی، جو گناہ ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر یہ تنخواہ ضابطہ کے مطابق کاٹے جاتے ہیں  تو شرعاً جائز ہے البتہ اگر ادارہ کی طرف سے ملازم  کے لیے استحقاقی چھٹی مقرر ہو اس کے باوجود کٹوٹی کرلے، تو یہ ناجائز ہے۔

ترمذی شریف میں ہے:

"حدثنا الحسن بن علي الخلال، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه  عن جده: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما، والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما"

(أبواب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،  باب ما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلح بين الناس، ج:3، ص:163، ط:دار الرسالة العالمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔۔۔۔وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل

(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة"

(كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص، ج:6، ص:69۔70، ط:سعید)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"و عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "«ألا لاتظلموا، ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه». رواه البيهقي في "شعب الإيمان"، و الدارقطني في "المجتبى.

(" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، و أن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه ("لايحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في " المجتبى ". 

(باب الغصب والعاریة، ج:5، ص:1974، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801102088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں