
کیاعورت اعتکاف کی حالت میں پردے میں رہ کر بچوں کو ٹیوشن پڑھاسکتی ہے ؟
واضح رہے کہ اعتکاف کامقصد اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا ، دنیا سے منہ موڑکر رحمتِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونا اور مغفرتِ باری تعالیٰ کی حرص کرنا ہے،اس لیے اعتکاف میں بیٹھنے والے انسان کو چاہیے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر یا پھر ان کا متبادل انتظام کر کے اعتکاف میں بیٹھے ،تاکہ یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرسکے ،لہٰذا صورت مسئولہ میں اعتکاف کی حالت میں فیس لے کر بچوں کو ٹیوشن پڑھانا مکروہ ہے ،البتہ اگر اعتکاف میں بیٹھنے والی عورت کا ذریعہ معاش صرف فیس لے کر بچوں کو پڑھانا ہے اس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے تو ایسی صورت میں بعض فقہاء نے اعتکاف کی حالت میں فیس لے کر بچوں کو پڑھانے کی اجازت دی ہے ۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے :
"(ولا يجوز) البيع والشراء في المسجد وكذا كره فيه التعليم والكتابة والخياطة بأجر وكل شيء كره فيه كره في سطحه واستثنى البزازي من كراهة التعليم بأجر فيه أن يكون لضرورة."
(کتاب الصوم ،باب الاعتکاف، ج:1، ص:257، ط: دار الکتب العلمیة)
الجوهرة النيرة میں ہے :
"قوله ولا بأس أن يبيع ويبتاع في المسجد من غير أن يحضر السلعة) يعني ما لا بد منه كالطعام والكسوة لأنه قد يحتاج إلى ذلك بأن لا يجد من يقوم بحاجته إلا أنه يكره إحضار السلعة لأن المسجد منزه عن حقوق العباد وأما البيع والشراء للتجارة فمكروه للمعتكف وغيره إلا أن المعتكف أشد في الكراهة وكذلك يكره أشغال الدنيا في المساجد كتحبيل القعائد والخياطة والنساجة والتعليم إن كان يعمله بأجرة وإن كان بغير أجرة أو يعمله لنفسه لا يكره إذا لم يضر بالمسجد ويجوز للمعتكف أن يتزوج ويراجع"
(کتاب الصوم ،باب الاعتکاف، ج: 1،ص: 147،ط:المطبعة الخیریة)
الفتاوى الهندية میں ہے :
"ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد، ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الکراہیة، الباب الخامس فی آداب المسجد،ج:5، ص: 321، ط : دار الفکر )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101880
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن