
ایک خاتون اعتکاف کا شوق رکھتی ہے،اور اعتکاف کرنا چاہتی ہے ،لیکن زمین پر نہیں بیٹھ سکتی، تو کیا چارپائی پر بیٹھ سکتی ہے؟ اس صورت میں نماز کیسے ادا کرےگی؟ کیا چارپائی پر سجدہ کرسکتی ہے؟
اگر ایک خاتون اعتکاف کرنا چاہتی ہے،لیکن زمین پر نہیں بیٹھ سکتی،تو وہ چارپائی پر بیٹھ کر بھی اعتکاف کرسکتی ہے۔
اسی طرح اگر وہ زمین پر بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتی،تو چارپائی پر بیٹھ کرنماز پڑھ سکتی ہے،اور چونکہ زمین پر سجدہ نہیں کر سکتی تو اشارے سے سجدہ کرےیعنی رکوع ا ورسجود اشارہ سے کرے۔
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه كان إذا اعتكف طرح له فراشه، أو يوضع له سريره وراء أسطوانة التوبة ."
"ترجمہ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرتے تو آپ کا بستر بچھا دیا جاتا تھا یا چارپائی توبہ کے ستون کے پیچھے ڈال دی جاتی تھی"
(ابواب الصیام، باب في المعتكف يلزم مكانا من المسجد، ج:2، ص: 654، ط:دار الرسالة العالمية )
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"(وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ)بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما
(كتاب الصلاة،باب صلاة المريض، ج:2، ص:97، ط:ایچ ایم سعید)
عالمگیری میں ہے:
"وإن عجز عن القيام والركوع والسجود وقدر على القعود يصلي قاعدا بإيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع، كذا في فتاوى قاضي خان حتى لو سوى لم يصح، كذا في البحر الرائق."
(كتاب الصلاة،الباب الرابع عشر في صلاة المريض،ج:1، ص: 136، ط:دار الفكر بيروت)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101099
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن