بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جس کمپنی میں تصاویر پر مشتمل ٹی شرٹس کی خرید و فروخت ہوتی ہو اس کمپنی میں ملازمت کرنے کا حکم


سوال

میں ایک لنڈے کے گو دام میں اکا ؤنٹنٹ کے طو ر پر کا م کر تا ہوں، ان کا جو بھی حساب ہو تا ہے اسے ایکسل کی شیٹ پر اتا ر تا ہوں، اس گو دام میں شرٹس ہو تی ہیں جو با ہر ملک تھا ئی لینڈ جا تی ہیں اور وہا ں بیچتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بعض بنڈل تصویر والے ہو تے ہیں اور بعض سا دہ ہو تے ہیں، یعنی: مکس ہو تے ہیں ۔ گو دام کے ما لک کا کہنا ہے کہ ہم اس کام کو بند کر رہے تھے،  لیکن علما ء سے جب مسئلہ دریا فت کیا تو یہ فتویٰ ملا کہ آ پ مکس کام کر تے ہیں اس لئے جا ئز ہے اوران کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصود تصویر نہیں، بلکہ ٹی شرٹس ہیں اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ یہ شرٹس ہم کا فروں پر بیچتے ہیں ۔

برائے مہر بانی اس بات کی و ضا حت فر ما دیں کہ کیا میرا اس گو دام میں اکا ؤ نٹنٹ کے طور پر کام کر نا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عام طور پر  جہاں تصویروں پر مشتمل ٹی شرٹس کی خرید و فروخت کی جاتی ہے تو اس میں تصویر مقصود بالذات ہوتی ہے، یعنی خریدنے والا تصویر کو مقصود بنا کر اس ٹی شرٹ کو خریدتا ہے،  جس کی وجہ سے اس خرید و فروخت کو جائز نہیں کہا جا سکتا اور اس سے حاصل شدہ منافع کو بھی حلال نہیں کہا جائے گا،  لہذا  صورت مسئولہ میں  آپ جس جگہ ملازمت کرتے ہیں اس جگہ چوں کہ    تصاویر پر مشتمل ٹی شرٹس بھی فروخت  ہوتی ہیں، تو سائل کے لیے جاندار کی نمایاں تصویر والی ٹی شرٹ فروخت کرنا حرام کام میں معاونت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، نیز  ایسی صورت میں آپ کی تنخواہ کے حلال ہونے یا حلال نہ ہونے کی بنیاد اس بات پر ہوگی کہ آپ کے گودام میں تصویر والی ٹی شرٹس کی خرید و فروخت زیادہ ہے یا عام ٹی شرٹس کی،  اگر عام ٹی شرٹس کی خرید و فروخت زیادہ ہے تو غالب آمدنی حلال ہوگی جس کی وجہ سے آپ کی تنخواہ بھی حلال ہوگی اور اگر کام کا غالب حصہ تصاویر والی ٹی شرٹس پر مشتمل ہے تو آمدنی کا غالب حصہ چونکہ حلال نہیں، اس لیے آپ کی تنخواہ بھی حلال نہیں ہوگی۔

شرح السیر الکبیر  (لشمس الائمۃ السرخسی)میں ہے:

"ألا ترى أن المسلمين ‌يتبايعون ‌بدراهم ‌الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها.

 وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف. فهناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعها أو يقسمها حطبا. قال: إلا أن يبيعها قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيها للحطب لا للاستعمال على وجه لا يحل، فحينئذ لا بأس بذلك.

لأنه مال منتفع به. فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعا."

(أبواب سهمان الخيل والرجالة في الغنائم،باب ما يحمل عليه الفيء وما يجوز فعله بالغنائم في دار الحرب، ص:1051،ط؛الشركة الشرقية)

کفایت المفتی میں ہے:

"تصویروں کا خریدنا بیچنا ناجائز ہے خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور بچوں کے کھیلنے کی ہوں یا اور کسی غرض کے لیے ،البتہ ایسی اشیاءجن میں تصویر کا خریدنا بیچنا مقصود نہ ہو ،جیسے دیا سلائی کے بکس کہ ان پر تصویر بنی ہوتی ہے،مگر تصویر کی بیع و شراءمقصود نہیں ہوتی تو ایسی چیزوں کا خریدنا بیچنا مباح ہو سکتا ہے"۔

(کفایت المفتی ، ج:9، ص: 235 ، ط:دار الاشاعت کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں