بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی کا حکم جس میں عیسائیت کی ترویج ہو


سوال

میں پیشے کے اعتبار سے ایک ڈیجیٹل مارکیٹر اور SEO (سرچ انجن آپٹیمائزیشن) ایکسپرٹ ہوں۔ میری کمپنی نے مجھے ایک بین الاقوامی پراجیکٹ تفویض کیا ہے، جو کہ ایک بڑے عیسائی (Christian) میڈیا گروپ “FrontGate Media” سے متعلق ہے۔ اس پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے قبل میں اس کی شرعی حیثیت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔

1. ادارے کا تعارف اور نوعیتِ کار (Business Model)

FrontGate Media کوئی عام تجارتی ادارہ نہیں، بلکہ گزشتہ بیس (20) سالوں سے عیسائیت (Christianity) کو ڈیجیٹل دنیا میں فروغ دینے والا ایک بڑا میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ ان کے اہم کام درج ذیل ہیں:

مشنری آؤٹ ریچ (Missionary Outreach):

عیسائی فلموں، میوزک اور مذہبی کتب (Bible) کی تشہیر و مارکیٹنگ۔

خصوصی نیٹ ورکس (Proprietary Networks):

ان کے پاس مخصوص Christian Influencer Groups اور Women Bloggers Networks (مثلاً Christian Moms Blog) موجود ہیں، جو گھروں اور خاندانوں میں عیسائی عقائد کو فروغ دینے کا ذریعہ ہیں۔

مشنری اداروں کے لیے خدمات (Services for Ministries):

ایسے اداروں کی ڈیجیٹل معاونت جو لوگوں کو عیسائی بنانے، Bible کی تعلیم دینے اور اس مقصد کے لیے عطیات (Donations) جمع کرنے پر کام کرتے ہیں۔

2. براہِ راست تبلیغ کے شواہد (Evidence)

ان کی ویب سائٹس پر موجود مواد کھلے طور پر عیسائی تبلیغ پر مبنی ہے، مثلاً:

ان کا مشن:

“Leading media group reaching the Christian faith culture.”

(یعنی عیسائی عقیدے اور کلچر تک رسائی حاصل کرنے والا نمایاں میڈیا گروپ)

گاسپل (Gospel) کی ترویج:

ان کے Influencer Groups براہِ راست Gospel اور عیسائیت کے فروغ کے لیے مخصوص ہیں۔

مذہبی تعلیم:

بچوں کو Bible کے مطابق دعا سکھانا، اور روزمرہ مسائل کا حل Bible کی روشنی میں پیش کرنا۔

3. میرا کردار اور SEO کی نوعیت

SEO کا مقصد کسی ویب سائٹ کو گوگل کے پہلے صفحے پر نمایاں کرنا ہوتا ہے۔ مجھ سے درج ذیل امور انجام دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے:

کی ورڈ آپٹیمائزیشن:

ایسے الفاظ اور جملے گوگل میں رینک کروانا جن کے ذریعے لوگ عیسائی عقائد کی طرف متوجہ ہوں، مثلاً:

Bible”کے مطابق بچوں کے ساتھ دعا کیسے کریں“

”ماؤں کے لیے بائبلی رہنمائی“

ڈیجیٹل اتھارٹی بنانا:

عیسائی بلاگز کو گوگل پر مستند (Authentic) ثابت کرنا تاکہ ان کی تبلیغ زیادہ مؤثر ہو۔

مشنری سرگرمیوں میں اضافہ:

SEO کے ذریعے ان کے Donation Pages اور مشنری مہمات کو مالی اور ڈیجیٹل طاقت فراہم کرنا۔

شرعی سوالات 

کیا ایک مسلمان کے لیے ایسی ایجنسی یا ادارے کے لیے کام کرنا جائز ہے جس کا بنیادی مقصد ہی عیسائیت کی تبلیغ اور اس کے غلبے کے لیے کام کرنا ہو؟

کیا یہ عمل قرآنِ کریم کی اس آیت کے تحت آتا ہے:

”وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ“(سورۃ المائدہ: 2)

یعنی ”گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو“؟

SEO کے دوران مجھے ایسے مضامین، آیات اور نظریات کو فروغ دینا ہوگا جو براہِ راست شرک (مثلاً Trinity اور Salvation) پر مبنی ہیں۔ کیا ایک مسلمان کے لیے اس نوعیت کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرنا جائز ہے؟

اس پراجیکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی (تنخواہ یا کمیشن) کا شرعی حکم کیا ہے؟

امید ہے کہ آپ اس معاملے کی ڈیجیٹل نوعیت اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تفصیلی اور واضح فتویٰ عنایت فرمائیں گے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ سے جو کام مطلوب ہے (یعنی عیسائی عقائد سے متعلق مواد کو گوگل میں نمایاں کرنا، عیسائی بلاگز کو گوگل میں معتبر ثابت کرنا، اور عطیات و مشنری مہمات کے صفحات کو ابھار کر ان کی مالی و ڈیجیٹل طاقت بڑھانا)، چوں کہ یہ عیسائیت اور عیسائی عقائد کی تعلیم، تبلیغ اور ترویج کے زمرے میں داخل ہے، اور ایسے مذہب کی تعلیم و ترویج کرنا جو منسوخ اور تحریف شدہ ہے نہ صرف اعانت علی المعصیت بلکہ بذاتِ خود معصیت ہے، لہٰذا ایسی ملازمت ناجائز اور حرام ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے۔
لہٰذا اس ملازمت سے اجتناب واجب ہے، آپ کوئی جائز ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور اپنی مہارت کو دینِ اسلام کی تعلیم، تبلیغ اور ترویج میں استعمال کریں۔

قرآن مجید میں ہے:

"{وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} (المائدہ، الآیۃ: 2)"

ترجمہ:”اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو “( بیان القرآن)

أحكام القرآن للجصاص  میں ہے:

"قوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا ‌على ‌الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(سورۃ المائدة، الآیة: 2، ج:2، ص: 381، دارالكتب العلمیة)

وفيه أیضا:

"{لا يألونكم خبالا} يعني: لا يقصرون فيما يجدون السبيل إليه من إفساد أموركم; لأن الخبال هو الفساد. ثم قال: {ودوا ما عنتم} قال السدي: "ودوا ضلالكم عن دينكم."

(‌‌باب الاستعانة بأهل الذمة، ج:2، ص:46، ط:دار الکتب العلمیة)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى ‌وينهاهم ‌عن ‌التناصر ‌على ‌الباطل ‌والتعاون ‌على ‌المآثم ‌والمحارم".

(سورة المائدة، الآیة:2، ج:3، ص:10، ط:دار الكتب العلمية)

بذل المجہود میں ہے :

 "ومتفق عليه أن كل اُجرة تكون علی فعل المعصية تكون حراما."

(کتاب الإجارة، باب في كسب الحجام، 129/11، ط: دارالبشائر )

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعلى هذا يخرج ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا."

)كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:189، ط: دار الكتب العلمية)

الموسوعة الفقهية الكويتية ميں هے:

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لايستحق به أجرة."

(إجارة،‌‌ الفصل السابع،‌‌ الفرع الثالث،‌‌ الإجارة على المعاصي والطاعات، ج: 1، ص290،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100976

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں