بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ایسی گائے کی قربانی کا حکم جس کا سینگ ہل رہا ہو


سوال

گاۓکاسینگھ جڑ سے ہل رہا ہے،  لیکن  ٹوٹ کر گرا نہیں اور نہ ہی خون آرہا ہےتو اس جانور کا کیاحکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ سینگ کے زخم کا اثرجب تک  جانور کے دماغ تک نہیں پہنچتا  اُس کی قربانی جائز ہوتی ہے،  لیکن زخم کا اثر اگر دماغ تک پہنچ جاۓ  تو ایسی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔

صورتِ مسئولہ میں  چوں کہ مذکورہ جانور کا سینگ نہ ٹوٹ کر گرا ہے،  نہ اُس سے کوئی خون وغیرہ آرہا ہے ، صرف ہل رہا ہے تو ایسی صورت میں اِس کی قربانی جائز ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"و يجوز بالجماء التي لاقرن لها و كذا مكسورة القرن، كذا في الكافي. وإن بلغ الكسر المشاش لايجزيه، و المشاش رؤس العظام مثل الركبتين و المرفقين، كذا في البدائع".

(٥/ ٢٩٧، ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"قوله: ويضحي بالجماء هي التي لا قرن لها خلقة، و كذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر المخ لم يجز. قهستاني. و في البدائع: إن بلغ الكسر المشاش لايجزي، و المشاش رؤس العظام مثل الركبتين و المرفقين". (٦/ ٣٢٣، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201386

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں