
1۔ کیا کسی کاسمیٹک پروڈکٹ میں خنزیر سے حاصل کردہ اجزاء جیسے (Gelatin acids, Fatty, Collagen) کا استعمال جائز ہے؟ یا ان کے ماخذ کے حوالے سے شرعی کیا حکم ہوگا؟
2۔ اگر کسی کریم ، لپ اسٹک یا کسی کاسمیٹک پروڈکٹ میں الکوحل شامل ہو تو کیا اس کا استعمال جائز ہے؟
3۔ اگر کسی کا سمیٹک پروڈکٹ میں غیر ذبح شدہ جانور کے اجزاء شامل ہوں تو کیا وہ استعمال کی جا سکتی ہیں؟
4۔کیا جانوروں کی چربی (Animal fat) سے بنی ہوئی کریمیں، لپ اسٹک یا کاسمیٹک استعمال کی جا سکتی ہیں ؟اور اگر وہ جانور غیر مذبوح ہو تو کیا حکم ہوگا ؟
5۔ اگر کوئی حرام یا ناپاک جزء کیمیکل پروسس کے ذریعے مکمل تبدیل ہو چکا ہو جس کو عربی میں استحالہ کہتے ہیں تو کیا وہ پاک اور جائز شمار ہوگا؟
1۔خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ حرام اور نجس العین ہے،اس کے کسی بھی جزء سے فائدہ اٹھانا شرعا جائز نہیں ہے،لہذا کسی بھی کاسمیٹک پروڈکٹ میں خنزیر سے حاصل کردہ اجزاء جیسے (Gelatin acids, Fatty, Collagen) کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
"إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ". (البقرة : 173)
ترجمہ : "اللہ نے تو تم پر صرف حرام کیا ہے مردار کو اور خون کو ( جو بہتا ہو ) اور خنزیر کے گوشت کو (اس طرح کے سب اجزاء کو بھی ) اور ایسے جانور کو جو بقصد تقرب) غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا ہو۔" (ازبیان القرآن)
دوسری جگہ فرمایا:
{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ }[المائدة:3]
ترجمہ : "تم پر حرام کیے گئے ہیں مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو ۔"
المحیط البرہانی میں ہے:
"وأما شعر الخنزير فهو نجس هو الظاهر في مذهب أبي حنيفة رحمة الله عليه، وروي أنه رخص للخزازين استعماله؛ لأن منفعه الخرز عادة لا تحصل إلا به وجرت العادة في زمن الصحابة رضوان الله عليهم إلى يومنا هذا في استعماله في الخرز من غير نكير منكر."
(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:476، ط:دار الکتب العلمیة)
وفیه ایضاً:
"ولا يجوز بيع شعر الخنزير؛ لأن الخنزير عينه نجس بجميع أجزائه منع الشرع عن الانتفاع به إهانة لعينه واستقباحاً لذاته، وفي البيع إعزاز له إلا أن رخص للخراز الانتفاع به من حيث الخرز؛ لأجل الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع، وعن أبي يوسف أنه كره الانتفاع به للخرازين؛ لأنه نجس ولا ضرورة في الانتفاع به؛ لأن الخرز يحصل بغيره، وعن بعض السلف أنه لا يلبس مكعباً ولا خفاً أخرز من شعر الخنزير."
(کتاب البیع، ج:6، ص:350، ط:دار الکتب العلمیة)
2۔واضح رہے کہ الکحل کی تین قسمیں ہیں:
(١) ایک وہ الکحل جو منقیٰ، انگور،کشمش یا کھجور سےحاصل کیا گیا ہو، یہ بالاتفاق ناپاک وحرام ہے، اور اس کا داخلی وخارجی استعمال اور اس کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔
(٢) دوسرا وہ الکحل جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جَو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کیا گیا ہو۔
(٣) تیسری قسم وہ الکحل ہے جو کیمیکل سے بنتا ہے۔
الکحل کی دوسری اور تیسری قسم پاک ہیں اور دونوں قسموں کا خارجی استعمال مطلقا جائز ہے، البتہ داخلی استعمال (کھانا، پینا وغیرہ) اور خرید و فروخت کا جواز نشہ آور نہ ہونے کے ساتھ مشروط ہوگا۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر کسی کریم ، لپ اسٹک یا کسی کاسمیٹک پروڈکٹ میں پہلی قسم کی الکحل شامل ہو جوکہ حرام اور ناپاک ہے، تو اس صورت میں ایسی مصنوعات کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اور اگر ان مصنوعات میں دوسری اور تیسری قسم کی الکحل شامل ہو ، تو ایسی مصنوعات کا خارجی استعمال جائز ہوگا۔
البتہ عام طور پر چہرے پر استعمال کی جانے والی مصنوعات (Face products) اور پرفیوم وغیرہ میں جو الکحل استعمال ہوتی ہے وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، لہذا کسی چیز کے بارے میں جب تک تحقیق سے ثابت نہ ہوجائے کہ اس میں پہلی قسم (منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب )سے حاصل شدہ الکحل ہے ، اس وقت تک اس کے استعمال کو ناجائز اور حرام نہیں کہا جائے گا، تاہم اگر احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
تکملہ فتح الملہم میں ہے:
"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.
و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."
(كتاب الأشربة، حکم الکحول المسکرة، ج: 3، ص:506، ط: دارالعلوم كراتشي)
وفيه أيضاً:
"وإنما نبهت علی هذا لأن الکحول المسکرة الیوم صارت تستعمل في معظم الأدوية ولأغراض کیمیاوية أخری ولاتستغنی عنها کثیر من الصناعات الحدیثة، وقد عمت بها البلوی واشتدت إليها الحاجة، والحکم فيها علی قول أبي حنیفة سهل؛ لأنها إن لم تکن مصنوعةً من النئي من ماء العنب فلا یحرم بیعها عنده، والذي یظهر لي أن معظم هذه الکحول لاتصنع من العنب، بل تصنع من غیرها، وراجعت له دائرة المعارف البریطانیة المطبوعة 1950م (1/544) فوجدت فیها جدولاً للمواد التي تصنع منها هذه الکحول، فذکر في جملتها العسل، والدبس، والحب، والشعیر، والجودار،وعصیرأناناس (التفاح الصوبری)، والسلفات، والکبریتات، ولم یذکر فیه العنب والتمر، فالحاصل أن هذه الکحول لو لم تکن مصنوعةً من العنب والتمر فبیعها للأغراض الکیمیاویة جائز باتفاق بین أبي حنیفة وصاحبیه، وإن کانت مصنوعةً من التمر أو من المطبوخ من عصیر العنب فکذلک عند أبي حنیفة، خلافاً لصاحبیه، ولو کانت مصنوعةً من العنب النئي فبیعها حرام عندهم جمیعاً، والظاهر أن معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا تمر، فینبغي أن یجوز بیعها لأغراض مشروعة في قول علماء الحنفیة جمیعاً."
(كتاب الأشربة، حکم الکحول المسکرة، ج:1، ص:551، ط: دارالعلوم كراتشي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل."
(كتاب الأشربة، ج:6، ص:459، ط:سعيد)
3۔جس جانور کو شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو وہ جانور مردار ہوتا ہے اور مردار جانور کے سارے اجزاء حرام اور نا پاک ہوتے ہیں، البتہ مردار جانور (سوائے خنزیر) کے وہ اجزاء جن میں خون سرایت نہیں کرتا، جیسا کہ ہڈی، سینگ، کُھر،اُون اور بال وغیرہ (بعض فقہاء کے ہاں پٹھے اور دودھ بھی) یہ اجزاء پاک ہوتے ہیں بشرطیکہ ان پر دسومت اور چکناہٹ لگی ہوئی نہ ہو ، نیز اسی طرح مردار کی کھال بھی دباغت دینے سے پاک ہو جاتی ہے، لہٰذا اگر کسی کاسمیٹک پروڈکٹ میں مردار جانور کے اجزاء شامل ہوں تو ناپاک ہونے کی وجہ سے اس کاسمیٹک کا استعمال ناجائز ہوگا، البتہ اگر کاسمیٹک پروڈکٹ میں مردار جانور کے صرف ایسے اجزاء شامل ہوں جن میں خون سرایت نہیں کرتا(جیسا کہ ہڈی، سینگ، کُھر،اُون اور بال وغیرہ) تو ایسے کاسمیٹک پروڈکٹ کا صرف بیرونی استعمال جائز ہوگا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
"إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ" (البقرة : 173)
ترجمہ : "اللہ نے تو تم پر صرف حرام کیا ہے مردار کو اور خون کو ( جو بہتا ہو ) اور خنزیر کے گوشت کو (اس طرح کے سب اجزاء کو بھی ) اور ایسے جانور کو جو بقصد تقرب) غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا ہو۔" (ازبیان القرآن)
دوسری جگہ فرمایا:
{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ }[المائدة:3]
ترجمہ : "تم پر حرام کیے گئے ہیں مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو ۔"
أحكام القرآن للجصاص میں ہے :
"قال الله تعالى: {إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل به لغير الله} . قال أبو بكر: الميتة في الشرع اسم للحيوان الميت غير المذكى، وقد يكون ميتة بأن يموت حتف أنفه من غير سبب لآدمي فيه، وقد يكون ميتة لسبب فعل آدمي إذا لم يكن فعله فيه على وجه الذكاة المبيحة له ... قال أصحابنا: لا يجوز الانتفاع بالميتة على وجه ولا يطعمها الكلاب والجوارح لأن ذلك ضرب من الانتفاع بها، وقد حرم الله الميتة تحريما مطلقا معلقا بعينها مؤكدا به حكم الحظر فلا يجوز الانتفاع بشيء منها إلا أن يخص شيء منها بدليل يجب التسليم له."
(باب تحريم الميتة،ج:1، ص:130، ط:دار الكتب العلمية)
تفسیر مظہری میں ہے :
"واجمعوا على انه لا يجوز بيع الميته ولا أكل ثمنه ولا الانتفاع بشحمه ولا بجلده قبل الدباغ."
(سورة البقرة، الآیة : 173، ج:1، ص:188، ط:دار الکتب العلمیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وشعر الميتة) غير الخنزير على المذهب (وعظمها وعصبها) على المشهور (وحافرها وقرنها) الخالية عن الدسومة وكذا كل ما لا تحله الحياة حتى الإنفحة واللبن على الراجح.
(قوله: وشعر الميتة إلخ) مع ما عطف عليه خبره قوله الآتي طاهر لما مر من حديث الصحيحين، من قوله عليه الصلاة والسلام في شاة ميمونة «إنما حرم أكلها» وفي رواية «لحمها» فدل على أن ما عدا اللحم لا يحرم فدخلت الأجزاء المذكورة، وفيها أحاديث أخر صريحة في البحر وغيره، ولأن المعهود فيها قبل الموت الطهارة فكذا بعده؛ لأنه لا يحلها. وأما قوله تعالى {من يحيي العظام} [يس: 78] الآية، فجوابه مع تعريف الموت بأنه وجودي أو عدمي. أطال فيه صاحب البحر فراجعه، وذكر ذلك في بحث المياه لإفادة أنه إذا وقع فيها لا ينجسها. وفي القهستاني: الميتة ما زالت روحه بلا تذكية ... (قوله الخالية عن الدسومة) قيد للجميع كما في القهستاني، فخرج الشعر المنتوف وما بعده إذا كان فيه دسومة (قوله وكذا كل ما لا تحله الحياة) وهو ما لا يتألم الحيوان بقطعه كالريش والمنقار والظلف (قوله حتى الإنفحة) بكسر الهمزة وقد تشدد الحاء وقد تكسر الفاء. والمنفحة والبنفحة: شيء واحد يستخرج من بطن الجدي الراضع أصفر فيعصر في صوفة فيغلظ كالجبن، فإذا أكل الجدي فهو كرش، وتفسير الجوهري الإنفحة بالكرش سهو قاموس بالحرف فافهم. (قوله على الراجح) أي الذي هو قول الإمام، ولم أر من صرح بترجيحه، ولعله أخذه من تقديم صاحب الملتقى له وتأخيره قولهما كما هو عادته فيما يرجحه. وعبارته مع الشرح: وإنفحة الميتة ولو مائعة ولبنها طاهر كالمذكاة خلافا لهما لتنجسهما بنجاسة المحل. قلنا نجاسته لا تؤثر في حال الحياة إذ اللبن الخارج من بين فرث ودم طاهر فكذا بعد الموت. اهـ.
ثم اعلم أن الضمير في قول الملتقى ولبنها عائد على الميتة، والمراد به اللبن الذي في ضرعها، وليس عائدا على الإنفحة كما فهم المحشي حيث فسرها بالجلدة، وعزا إلى الملتقى طهارتها؛ لأن قول الشارح ولو مائعة صريح بأن المراد بالإنفحة اللبن الذي في الجلدة، وهو الموافق لما مر عن القاموس، وقوله لتنجسها إلخ صريح في أن جلدتها نجسة، وبه صرح في الحلية حيث قال بعد التعليل المار: وقد عرف من هذا أن نفس الوعاء نجس بالاتفاق. اهـ. ولدفع هذا الوهم غير العبارة في مواهب الرحمن فقال: وكذا لبن الميتة وإنفحتها ونجساها وهو الأظهر إلا أن تكون جامدة فتطهر بالغسل. اهـ. وأفاد ترجيح قولهما وأنه لا خلاف في اللبن على خلاف ما في الملتقى والشرح فافهم.
(كتاب الطهارة،باب المياه، ج:1، ص:206، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(كما ينتفع بما لا تحله حياة منها) كعصبها وصوفها كما مر في الطهارة.
(قوله كعصبها وصوفها) أدخلت الكاف عظمها وشعرها وريشها ومنقارها وظلفها وحافرها فإن هذه الأشياء طاهرة لا تحلها الحياة فلا يحلها الموت، ويجوز بيع عظم الفيل والانتفاع به في الحمل والركوب والمقاتلة منح ملخصا ط."
(كتاب البيوع،باب البيع الفاسد، ج:5، ص:73، ط:سعید)
4۔جو جانور حلال ہو اور اسے شرعی طریقے سے ذبح بھی کیا گیا ہو تو ایسے جانوروں کی چربی حلال اور پاک ہوتی ہے، اس لیے ایسے جانوروں کی چربی سے بنی ہوئی کریمیں، لپ اسٹک یا کاسمیٹک بھی پاک ہوں گی اور ان کا استعمال کرنا جائز ہوگا، البتہ جو جانور حرام ہوں یا انہیں شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو تو ایسے جانوروں کی چربی حرام اور ناپاک ہوتی ہے، اس لیے ایسے جانوروں کی چربی سے بنی ہوئی کریمیں، لپ اسٹک یا کاسمیٹک بھی ناپاک ہوں گی اور ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔
مشكاة المصابيح میں ہے :
"وعن جابر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام . فقيل: يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة؟ فإنه تطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس؟ فقال: لا هو حرام . ثم قال عند ذلك: قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها أجملوه ثم باعوه فأكلوا ثمنه."
(كتاب البيوع، باب الكسب وطلب الحلال، الفصل الأول، ج:1، ص:247، ط:رحمانیة)
ترجمہ : "حضرت جابر سے روایت ہے۔ کہ میں نے فتح مکہ والے سال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! آپ یہ بتلائیں کہ ہمارے لیے مردار کی چربی کا کیا حکم ہے۔ وہ کشتیوں پر ملی جاتی ہے اسی طرح چمڑوں کو بھی اس کے ذریعے چکنا کیا جاتا ہے اور چراغ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ مردار کی چربی حرام ہے۔ اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت کرے کہ اللہ نے جب جانوروں کی چربی ان پر حرام کر دی تو یہود نے چربی کو پگھلا کر اس کو فروخت کر کے اس کے مال کو کھانا شروع کر دیا۔ یہ بخاری و مسلم کی روایت ہے۔"(ازمظاہرِ حق)
مرقاة المفاتيح میں ہے :
"(هو) : أي الانتفاع به (حرام) : أي: ممنوع: قال الطيبي رحمه الله: الضمير المرفوع راجع إلى مقدر بعد كلمة الاستخبار، وكلمة (لا) رد لذلك المقدر، وهو يحتمل أمرين أحدهما: أخبرني أيحل انتفاع شحوم الميتة، والثاني: هو المراد: قال النووي رحمه الله: معنى قوله: " لا هو حرام لا تبيعوها فإن بيعها حرام، فالضمير في (هو) يعود إلى البيع لا الانتفاع، وهذا هو الصحيح عند الشافعي وأصحابه، وعند الجمهور لا يجوز الانتفاع به في شيء من ذلك أصلا لعموم النهي ; إلا ما خص وهو الجلد المدبوغ."
(کتاب البیوع، باب الكسب وطلب الحلال، ج:6، ص:14، ط:دار الکتب العلمیة)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"ولا يضر أثر دهن إلا دهن ودك ميتة؛ لأنه عين النجاسة حتى لا يدبغ به جلد.
(قوله: إلا دهن ودك ميتة) الأولى أن يقول إلا ودك دهن ميتة؛ لأن الودك الدسم كما في القاموس."
(كتاب الطهارة،باب الأنجاس، ج:1، ص:330، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"وفي المجمع: ونجيز بيع الدهن المتنجس والانتفاع به في غير الأكل بخلاف الودك.
(قوله: بخلاف الودك) أي دهن الميتة؛ لأنه جزؤها فلا يكون مالا ابن ملك: أي فلا يجوز بيعه اتفاقا، وكذا الانتفاع به لحديث البخاري "إن الله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام، قيل: يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة فإنه يطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس؟ قال: لا، هو حرام. الحديث ."
(کتاب البیوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:73، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"(طهر بذكاة) على المذهب (لا) يطهر (لحمه على) قول (الأكثر إن) كان (غير مأكول) هذا أصح ما يفتى به وإن قال في الفيض الفتوى على طهارته.
(قوله لا يطهر لحمه) أي لحم الحيوان ذي الإهاب، فالضمير عائد إلى " ما " على تقدير مضاف أو بدونه والإضافة لأدنى مناسبة تأمل (قوله هذا أصح ما يفتى به) أفاد أن مقابله مصحح أيضا، فقد صححه في الهداية والتحفة والبدائع، ومشى عليه المصنف في الذبائح كالكنز والدرر، والأول مختار شراح الهداية وغيرهم. وفي المعراج أنه قول المحققين، وما ذكره الشارح عبارة مواهب الرحمن. وقال في شرحه المسمى بالبرهان بعد كلام: فجاز أن تعتبر الذكاة مطهرة لجلده للاحتياج إليه للصلاة فيه وعليه، ولدفع الحر والبرد وستر العورة بلبسه دون لحمه لعدم حل أكله المقصود من طهارته، وتمامه في حاشية نوح.
والحاصل أن ذكاة الحيوان مطهرة لجلده ولحمه إن كان الحيوان مأكولا، وإلا فإن كان نجس العين فلا تطهر شيئا منه، وإلا فإن كان جلده لا يحتمل الدباغة فكذلك؛ لأن جلده حينئذ يكون بمنزلة اللحم، وإلا فيطهر جلده فقط، والآدمي كالخنزير فيما ذكر تعظيما له."
(كتاب الطهارة،باب المياه، ج:1، ص:205، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"(وذبح ما لا يؤكل يطهر لحمه وشحمه وجلده) تقدم في الطهارة ترجيح خلافه (إلا الآدمي والخنزير) كما مر.
(قوله: وذبح ما لا يؤكل) يعني ذكاته لما في الدرر وبالصيد يطهر لحم غير نجس العين لأنه ذكاة حكما.
(قوله: يطهر لحمه وشحمه وجلده) حتى لو وقع في الماء القليل لا يفسده، وهل يجوز الانتفاع به في غير الأكل؟ لا يجوز اعتبارا بالأكل، وقيل لا يجوز كالزيت إذا خالطه ودك الميتة والزيت غالب لا يؤكل وينتفع به في غير الأكل هداية.
(قوله: تقدم في الطهارة ترجيح خلافه) وهو أن اللحم لا يطهر بالذكاة والجلد يطهر بها اهـ ح. أقول: وهما قولان مصححان، وبعدم التفصيل جزم في الهداية والكنز هنا، نعم التفصيل أصبح ما يفتى به. هذا، وفي الجوهرة: واختلفوا في الموجب لطهارة ما لا يؤكل لحمه هل هو مجرد الذبح أو الذبح مع التسمية؟ والظاهر الثاني وإلا يلزم تطهير ما ذبحه المجوس اهـ لكن ذكر صاحب البحر في كتاب الطهارة أن ذبح المجوسي وتارك التسمية عمدا يوجب الطهارة على الأصح، وأيده بأنه في النهاية حكى خلافه بقيل.
(قوله: إلا الآدمي) هذا استثناء من لازم المتن فإنه يؤخذ منه جواز الاستعمال، فالآدمي وإن طهر لا يجوز استعماله كرامة له، والخنزير لا يستعمل وهو باق على نجاسته لأن كل أجزائه نجسة ط.
(قوله: كما مر) أي في الطهارة."
(كتاب الذبائح، ج : 6، ص : 308، ط : سعید)
5۔اگر کسی حرام اور ناپاک چیز کی ماہیت مکمل طور پر تبدیل ہوجائے یعنی وہ چیز اپنی اصل حقیقت وماہیت اور خاصیات چھوڑ کر دوسری حقیقت وماہیت اور خاصیات میں بدل جائے، نیز نجس ہونے کی صورت میں نجاست کا کوئی اثر بھی باقی نہ رہے (جیسے مثلا شراب کی ماہیت بدلنے سے سرکہ بن جائے ،کسی مردار جانور کا گوشت نمک میں رکھے رہنے کی وجہ سے نمک بن جائے یا جلنے کی وجہ سے کوئلہ بن جائے یا گوبر کو جلا کر راکھ بنالیا جائے) تو ایسی صورت میں وہ حرام اور ناپاک چیز حلال اور پاک چیز بن جاتی ہے، لیکن اگر حرام اور ناپاک چیز کی ماہیت مکمل طور پر تبدیل نہ ہو، بلکہ حرام اور ناپاک چیز میں صرف ظاہری یعنی شکل و صورت یا رنگ وبو وغیرہ کی تبدیلی واقع ہوجائے (مثلاً کسی حرام یا ناپاک چیز میں صرف کوئی رنگ یا خوشبو شامل کردی جائے، یا ٹھوس چیز کو پِگھلا دیا جائے یا بہنے والی چیز کو جما دیا جائے) تو ایسی صورت میں وہ حرام اور ناپاک اشیاء حلال اور پاک نہیں بنے گی، بلکہ حسبِ سابق ناپاک ہی رہے گی۔
لہٰذا اگر صابن بنانے کے لیے مردار کی چربی کو مکمل کیمیائی عمل سے گزارا جائے یعنی مثلاً اس میں Sodium Hydroxide (NaOH) شامل کردیا جائے جس کی وجہ سے چربی کی اپنی اصلی ماہیت ختم ہوجائے اور ایک نئی ماہیت Fatty Acid Salts بن جائے تو ایسی صورت میں کیمیائی عمل کے ذریعے مردار کی چربی سے بنایا گیا صابن پاک ہوگا اور ایسے صابن کا استعمال جائز ہوگا۔ لیکن اگر صابن بنانے کے لیے مردار کی چربی کو کیمیائی عمل سے گزارے بغیر اور ماہیت کی تبدیلی کے بغیر مردار کی چربی میں فقط رنگ و خوشبو وغیرہ ملاکر اس سے صابن بنالیا گیا ہو تو ایسا صابن ناپاک ہوگا اور ایسے صابن کا استعمال ناجائز ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"إذا تخللت بنفسها يحل شرب الخل بلا خلاف لقوله: عليه الصلاة والسلام «نعم الإدام الخل» وإنما يعرف التخلل بالتغير من المرارة إلى الحموضة بحيث لا يبقى فيها مرارة أصلا عند أبي حنيفة رضي الله عنه حتى لو بقي فيها بعض المرارة لا يحل وعند أبي يوسف ومحمد تصير خلا بظهور قليل الحموضة فيها لأن من أصل أبي حنيفة رحمه الله أن العصير من ماء العنب لا يصير خمرا إلا بعد تكامل معنى الخمرية فيه فكذا الخمر لا يصير خلا إلا بعد تكامل معنى الخلية فيه وعندهما يصير خمرا بظهور دليل الخمرية ويصير خلا بظهور دليل الخلية فيه هذا إذا تخللت بنفسها، فأما إذا خللها صاحبها بعلاج من خل أو ملح أو غيرهما، فالتخليل جائز والخل حلال عندنا ... (ولنا) ما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: «أيما إهاب دبغ فقد طهر» كالخمر إذا تخلل فيحل فحقق عليه الصلاة والسلام التخليل وأثبت حل الخل شرعا ولأن التخليل سبب لحصول الحل فيكون مباحا استدلالا بما إذا أمسكها حتى تخللت، والدليل على أنه سبب لحصول الحل أن بهذا الصنع صار المائع حامضا بحيث لا يبين في الذوق أثر المرارة فلا يخلو إما إن كان ذلك لغلبة الحموضة المرارة مع بقائها في ذاتها، وإما إن كان لتغير الخمر من المرارة إلى الحموضة لا سبيل إلى الأول لأنه لا حموضة في الملح لتغلب المرارة وكذا بإلقاء حلو قليل يصير حامضا في مدة قليلة لا تتخلل بنفسها عادة، والقليل لا يغلب الكثير فتعين أن ظهور الحموضة بإجراء الله تعالى العادة على أن مجاوزة الخل يغيرها من المرارة إلى الحموضة في مثل هذا الزمان فثبت أن التخليل سبب لحصول الحل فيكون مباحا لأنه حينئذ يكون اكتساب مال متقوم عندنا."
(كتاب الأشربة، ج:5، ص:113، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) يطهر (زيت) تنجس (بجعله صابونا) به يفتى للبلوى. كتنور رش بماء نجس.
(قوله: ويطهر زيت إلخ) قد ذكر هذه المسألة العلامة قاسم في فتاواه، وكذا ما سيأتي متنا وشرحها من مسائل التطهير بانقلاب العين، وذكر الأدلة على ذلك بما لا مزيد عليه، وحقق ودقق كما هو دأبه - رحمه الله تعالى -، فليراجع.
ثم هذه المسألة قد فرعوها على قول محمد بالطهارة بانقلاب العين الذي عليه الفتوى واختاره أكثر المشايخ خلافا لأبي يوسف كما في شرح المنية والفتح وغيرهما. وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ.
ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة، فيقال: كذلك في الدبس المطبوخ إذا كان زبيبه متنجسا ولا سيما أن الفأر يدخله فيبول ويبعر فيه وقد يموت فيه، وقد بحث كذلك بعض شيوخ مشايخنا فقال: وعلى هذا إذا تنجس السمسم ثم صار طحينة يطهر، خصوصا وقد عمت به البلوى وقاسه على ما إذا وقع عصفور في بئر حتى صار طينا لا يلزم إخراجه لاستحالته.
قلت: لكن قد يقال: إن الدبس ليس فيه انقلاب حقيقة؛ لأنه عصير جمد بالطبخ؛ وكذا السمسم إذا درس واختلط دهنه بأجزائه ففيه تغير وصف فقط؛ كلبن صار جبنا، وبر صار طحينا، وطحين صار خبزا؛ بخلاف نحو خمر صار خلا وحمار وقع في مملحة فصار ملحا، وكذا دردي خمر صار طرطيرا وعذرة صارت رمادا أو حمأة، فإن ذلك كله انقلاب حقيقة إلى حقيقة أخرى لا مجرد انقلاب وصف كما سيأتي - والله أعلم -.
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:315، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(لا) يكون نجسا (رماد قذر) وإلا لزم نجاسة الخبز في سائر الأمصار (و) لا (ملح كان حمارا) أو خنزيرا ولا قذر وقع في بئر فصار حمأة لانقلاب العين به يفتى.
(قوله: قذر) بفتح القاف والذال المعجمة، والمراد به العذرة والروث كما عبر في المنية.
(قوله: وإلا) أي: وإن لا نقل أنه لا يكون نجسا، وظاهره أن العلة الضرورة، وصريح الدرر وغيرها أن العلة هي انقلاب العين كما يأتي، لكن قدمنا عن المجتبى أن العلة هذه وأن الفتوى على هذا القول للبلوى، فمفاده أن عموم البلوى علة اختيار القول بالطهارة المعللة بانقلاب العين فتدبر.
(قوله: كان حمارا أو خنزيرا) أفاد أن الحمار مثال لا قيد احترازي. وأشار بإطلاقه إلى أنه لا يلزم وقوعه وهو حي، فإنه لو وقع في المملحة بعد موته فهو كذلك كما في شرح المنية.
(قوله: حمأة) بفتح الحاء المهملة وسكون الميم وفتح الهمزة وبهاء التأنيث. قال في القاموس: الطين الأسود المنتن ح.
(قوله: لانقلاب العين) علة للكل، وهذا قول محمد، وذكر معه في الذخيرة والمحيط أبا حنيفة حلية. قال في الفتح: وكثير من المشايخ اختاروه، وهو المختار؛ لأن الشرع رتب وصف النجاسة على تلك الحقيقة وتنتفي الحقيقة بانتفاء بعض أجزاء مفهومها فكيف بالكل؟ فإن الملح غير العظم واللحم، فإذا صار ملحا ترتب حكم الملح. ونظيره في الشرع النطفة نجسة وتصير علقة وهي نجسة وتصير مضغة فتطهر، والعصير طاهر فيصير خمرا فينجس ويصير خلا فيطهر، فعرفنا أن استحالة العين تستتبع زوال الوصف المرتب عليها. اهـ.
[تنبيه] يجوز أكل ذلك الملح والصلاة على ذلك الرماد كما في المنية وغيرها، وما فيها من أنه لو وقع ذلك الرماد في الماء فالصحيح أنه ينجس فليس بصحيح إلا على قول أبي يوسف كما ذكره الشارحان.
[تنبيه آخر] مقتضى ما مر ثبوت انقلاب الشيء عن حقيقته كالنحاس إلى الذهب، وقيل: إنه غير ثابت؛ لأن قلب الحقائق محال والقدرة لا تتعلق بالمحال، والحق الأول بمعنى أنه تعالى يخلق بدل النحاس ذهبا على ما هو رأي المحققين، أو بأن يسلب عن أجزاء النحاس الوصف الذي به صار نحاسا، ويخلق فيه الوصف الذي يصير به ذهبا على ما هو رأي بعض المتكلمين من تجانس الجواهر واستوائها في قبول الصفات، والمحال إنما هو انقلابه ذهبا مع كونه نحاسا لامتناع كون الشيء في الزمن الواحد نحاسا وذهبا، ويدل على ثبوته بأحد هذين الاعتبارين كما اتفق عليه أئمة التفسير قوله تعالى {فإذا هي حية تسعى} [طه: 20] وإلا لبطل الإعجاز. ويبتني على هذا القول أن علم الكيمياء الموصل إلى ذلك القلب يجوز لمن علمه علما يقينيا أن يعلمه ويعمل به. أما على القول الثاني فلا؛ لأنه غش، وتمامه في تحفة ابن حجر وقدمنا في صدر الكتاب زيادة على ذلك."
(كتاب الطهارة،باب الأنجاس، ج:1، ص:326، ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100971
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن