بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسے اشعار پڑھنے جائز نہیں جس سے آپ ﷺ کے متعلق حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ مترشح ہوتا ہو


سوال

اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا

اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا جب وقت نزا آئے دیدار عطاء کرنا
اے  نور خدا آکر آنکھوں میں سما جانایا در پہ بلا لینا یا خواب میں آ جانا
 اے پردہ نشین دل کے پردوں میں رہا کرنا جب وقت نزا آئے دیدار عطاء کرنا
میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا امداد کو میری تم آ جانا ذرا شاہا 
روشن میری تربد کو اے نور خدا کرنا جب وقت نزا آئے دیدار عطاء کرنا
مجرم ہوں جہاں بھر کا محشر میں بھرم رکھنا رسواء زمانہ ہوں دوزغ سے بچا لینا
منظور دعا میری اے حبیب خدا کرنا جب وقت نزا آئے دیدار عطاء کرنا
چیرے سے ضیاء پائی سب چاند ستاروں نے اس در سے شفاء پائی دکھ درد کے ماروں نے

کیا یہ نعت شرکیہ کلام پر مشتمل ہے؟ اس کو پڑھنا کیسا ہے؟ اس کا سننا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ نعتیہ کلام سے آپ ﷺ کے متعلق “حاضر و ناظر” ہونے کا عقیدہ مترشح ہوتا ہے، اس لیے اس نعتیہ کلام کو پڑھنے اور سننے سے اجتناب کیا جائے۔ تاہم چوں کہ اس میں صحیح تاویل کی گنجائش موجود ہے، اس لیے اسے کہنے والے پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها اهـ كلام البحر باختصار".

(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج:4، ص:224، ط:سعید)

 

مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"اعتقاد اینکہ کسےغیرحق سبحانہ حاضروناظروعالم خفی وجلی درہروقت وہرآن  است ،اعتقادشرک است۔"

)مجمو عۃ الفتاویٰ علی ہامش خلاصۃ الفتاویٰ، ج:4 ، ص:331، ث ط:امجداکیڈیمی(

امداد الفتاوی میں ہے:

"سوال: کتاب ”نشر الطیب ”و” رسالہ حفظ الایمان“ کے دیکھنے سے دو شہبے پیدا ہوئے جن کا استفسار ہے۔

جناب کے نزدیک یا رسول اللہ جائز نہیں ، جیسا کہ اس کتاب کی فصل ۳۸ بیان توسل سے ظاہر ہے فصل ۲۱” شیم الحبیب“ مصنفہ مفتی الہی بخش صاحب کے آخر میں جو قصیدہ نقل کیا گیا ہے اس میں چند جگہ الفاظ یا موجود ہے، اور جناب نے ہر طریقہ سے منع فرمایا ، واقعی عوام میں غلو ہے اور علماء کو ان کی حفاظت کے واسطے منع فرمایا یہ بھی درست ہے، پھر اس قسم کی نظمیں اس کتاب میں لکھدی گئیں اس کو عوام پڑھیں گے اور علماء بیان کریں گے، گویا منع و جو از ایک کتاب میں جمع ہو گئے۔

الجواب:بارادۂ استعانت و استغاثہ یا باعتقاد حاضر وناظر ہونے کے منہی عنہ  اوربدون اس اعتقاد کے محض شوقاً و استلذاذاً ماذون فیہ ہے، چوں کہ اشعار پڑھنے کی غرض محض اظہار شوق و استلذاذ ہو تاہے؛ اس  لیے نقل میں توسع کیا گیا، لیکن اگر کسی جگہ اس کے خلاف دیکھا جائے گا، منع کر دیا جائے گا۔"

)امداد الفتاوی، ج :5،  ص:391،دار الاشاعت(

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101999

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں