
شوہر نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے کہ ”اگر تم نےآئندہ میری بہنوں کی عزت کی یعنی میری بہنوں کو پوچھا یا ان کی باتوں کو اہمیت دی، مثلاً کھانے پینے کے بارے میں ان سے پوچھا، پانی وغیرہ کا خیال رکھا، یا گھر کے معاملات میں ان کی رائے کو فوقیت دی اور ان کے حکم کے مطابق چلی، یا ان کی باتوں کو ماننے لگو گی اور ان کے حکم پر چلو گی تو تجھے میری طرف سے طلاق ہے“ اب اگر کبھی مستقبل میں اس نے میری بہنوں کی عزت کی تو کیا میری بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جب اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے کہ ”آئندہ اگر تو نے میری بہنوں کی عزت کی تو تجھے میری طرف سے طلاق ہے“ اور بہنوں کی عزت کرنے سے مراد شوہر کی یہ تھی کہ اگر میری بہنوں کو پوچھا یا ان کی باتوں کو اہمیت دی، مثلاً کھانے پینے کے بارے میں ان سے پوچھا، پانی وغیرہ کا خیال رکھا، یا گھر کے معاملات میں ان کی رائے کو فوقیت دی اور ان کے حکم کے مطابق چلی، یا ان کی باتوں کو ماننے لگو گی اور ان کے حکم پر چلو گی تو تجھے میری طرف سے طلاق ہے“ تو بیوی کی جانب سے شوہر کی بہنوں کی(اس طرح کی) عزت کرنے پر طلاق معلق ہے، لہٰذا جب یہ شرط پائی جائے گی اور بیوی شوہر کی بہنوں کی (مذکورہ بالا طریقہ پر)عزت کرے گی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائےگی، پھر شوہر کی طرف سےعدت میں رجوع کرنے پردونوں ایک ساتھ رہ سکیں گے، تاہم آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق".
(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج:1، ص:40، ط: دار الفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وعلى هذا يبنى حق الرجعة أنه ثابت للزوج بالإجماع سواء كان الطلاق واحدا أو اثنين، أما عندنا فلقيام الملك من كل وجه".
وفيه أيضا:
"وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى، ولو قال لما نكحتك أو تزوجتك كان رجعة في ظاهر الرواية".
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:180,183، ط: العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703102127
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن