بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک یا دو طلاقوں کے بعد حلالہ کی ضرورت نہیں


سوال

میری بہن کو ان کے شوہر نےان الفاظ کے ساتھ  پہلی طلاق تحریری طور پر جنوری 2024 میں دی،  "میں گھریلو ناچاقی کی وجہ سے ان کو طلاق دے رہا ہوں" اس کے بعد رجوع نہیں کیا، میری بہن اس کے بعد ہمارے گھر میں ہی ہے، پھر دوسری طلاق 21 جولائی 2024 کو تحریری طور پر ان الفاظ کے ساتھ دی:"میں اپنے ہوش و حواس میں طلاق دے رہا ہوں"۔

اب سوال یہ ہے کہ کتنی طلاقیں ہوگئی ہیں اور اب مذکورہ شخص سے دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے؟ یا حلالہ کرنا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو تحریری طور پر ان الفاظ کے ساتھ ایک طلاق دی کہ"میں گھریلو ناچاقی کی وجہ سے ان کو طلاق دے رہا ہوں" تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی، اس کے بعد جب شوہر نے رجوع نہیں کیا، تو اگر مطلقہ کی عدت (جوکہ حمل نہ ہونے کی صورت میں تین ماہواری  اور حمل کی صورت میں  بچے کی پیدائش تک ہے) مکمل ہوگئی تھی، تو  نکاح ختم ہوچکا تھا،  عدت مکمل ہونے کے بعد دی گئی دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ عدت مکمل ہونے کے بعد اب شوہر  نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کےساتھ رکھ سکتا ہے، ایک یا دو طلاقوں کی صورت میں رجوع کے لیے حلالہ کی ضرورت نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو ‌تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:470، ط:دار الفكر)

وأيضا:

"إذا كان ‌الطلاق ‌بائنا ‌دون ‌الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:472، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100726

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں