بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1447ھ 08 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک یادوآیتیں قرات بھولنے سے کیا سجدہ سہولازم ہوگا؟


سوال

اگر مغرب کی نماز کی  دوسری رکعت میں الحمدللہ سے  آمین تک پڑھنے کے بعدسورت ملاتے ہوئے" إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ"تک پڑھ کربندہ بھول جائے، اور پھر آگے"وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ"تک پڑھ کر پھر بھو ل جائے  تو کیا اس طرح سجدہ سہو ہ  واجب ہوجائے گا؟ 

جواب

واضح رہے کہ محض قرات بھولنے کی وجہ سے آدمی پرسجدہ سہوہ لازم نہیں ہوتا، بلکہ قرات  کی مقدار یعنی تین  چھوٹی آیتوں کے بقدر قرات نہ کرنے کی وجہ سےآدمی پر  سجدہ سہو ہ لازم ہوتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرآدمی    "إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ" تک سورت پڑھ  کربھول جائے اور آگے "وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ"تک پڑھ کرپھر بھول جائے ،توایسی صورت میں محض بھولنے کی وجہ سے تو آدمی پر سجدہ سہو ہ لازم نہیں ہوگا، البتہ آگے اگربھول کر سورت مکمل نہیں کی  ،یا کوئی اورسورت یااس کی دوآیتیں یاایک بڑی آیت جو تین یا دوچھوٹی آیتوں کے برابر  ہونہیں پڑھی،  توتب سجدہ سہوہ لازم ہو گا،اورپھر سجدہ سہوہ کیے بغیر ہی اگرنماز پڑھ لی تو وقت کے اندراندر نمازکا اعادہ واجب ہوگا ،اوروقت گزرنے کے بعداعادہ  افضل اورمستحب ہوگا۔

 المحیط البرہانی  میں ہے:

"ومن المشايخ من قال إن كان لما ذكر من الشطر وجهاً صحيحاً في اللغة، ولا يكون لغواً ولا يتغير به المعنى ينبغي أن لا يوجب فساد الصلاة."

(كتاب الصلاة، الفصل الرابع عشر في ذكر بعض الحروف من الكلمة، ج:1، ط:335، ط: دار الكتب العلمية)

وفیه ایضاََ:

"ولو قرأ مع فاتحة الكتاب آية قصيرة وركع ساهياً، فعليه السهو؛ لأن قراءة ثلاث آيات فصاعداً مع الفاتحة أو آية طويلة مع الفاتحة من واجب الصلاة بالإجماع."

(الفصل السابع عشر في سجود السهو،ج:1،ص:502،ط:335ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق."

 (کتاب الصلوۃ، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الثاني في واجبات الصلاة،ج:1،ص:71،ط:رشیدیة)

وفیه ایضاََ:

"ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي"

(کتاب الصلوۃ :الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1،ص:126،ط:رشیدیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فالحاصل أن من ترك واجبا من واجباتها أو ارتكب مكروها تحريميا لزمه وجوبا أن يعيد في الوقت، فإن خرج أثم ولا يجب جبر النقصان بعده. فلو فعل فهو أفضل."

(کتاب الصلوۃ، باب قضاء الفوائت،ج:2،ص:630،ط:رشیدیة)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711102350

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں