بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق پر مشتمل جعلی طلاق نامہ بنوانے کا حکم


سوال

میں نے ایک جگہ شادی کی جو میرے گھر والوں کو پسند نہیں تھی، انہوں نے دوسری شادی کرنے پر زور دیا تومیں نے ہاں کر دی، مگر جہاں  دوسری شادی   کی بات طے ہوئی  انہوں نے یہ شرط رکھی کہ پہلے بیوی کوطلاق دیں، پھر ہم اپنی بیٹی دیں گے، میرے گھر والوں نے بولا کہ ایک جعلی طلاق نامہ بنائیں جو ان کو دکھائیں گے، اور گواہوں کو بھی بتا دیا تھا کہ ہم جعلی طلاق نامہ بنوا رہے ہیں دکھانے کے لیے، میں نے ایک طلاق کا طلاق  نامہ بنوایا ،اور ان کو دکھایا، شادی ہو گئی، پھر طلاق نامہ جلا دیا، اب ہمارے پاس  اس کی نقل ہے نہ اصل اور اس  شادی کے بعد میں اپنی پہلی بیوی کے پاس چلا گیا، اور ان سے تعلقات قائم ہو گئے اور پھر سسرال والے بھی مان گئے کہ بھلے طلاق نہ دو۔

کیا اس طرح کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہوئی تو اب اس بیوی کو میرے لیے رکھنا کیسا ہے؟

جب کہ میں نے طلاق نامہ بنانے کے آٹھ دن بعد اس بیوی سے تعلقات قائم کر لیے تھے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  سائل نے پسند کی شادی ایسی جگہ کی تھی جو سائل کے اعتبار سے کفو(ہم پلہ)تھی،اور دینی اعتبار سے بھی اس میں کوئی شرعی قباحت  نہیں پائی جاتی تھی،اس کے باوجود سائل کے گھر والوں کا سائل کو دوسری جگہ نکاح کرنے پر مجبور کرنا، شرعا جائز نہیں تھا، اسی طرح  دوسری بیوی کے گھر والوں کا سائل کے اپنی بیٹی کے ساتھ  نکاح کو    پہلی بیوی کے طلاق دینے پر مشروط کرنا  بھی ناجائز تھا،البتہ اگر واقعۃً  سائل نے طلاق نامہ بنوانے سے قبل دوگواہ اس بات پر بنائے تھے کہ وہ جعلی طلاق نامہ بنوارہا ہے، اور اس  سےطلاق دینے کی نیت نہیں ہے، اور سائل نے ایک طلاق پر مشتمل طلاق نامہ ہی بنوایا تھا، نیز سائل نے زبانی طور  کسی کے سامنے بھی طلاق کا اقرار نہیں کیا ،بلکہ صرف اسی طلاق نامہ پر دستخط کرنے پر اکتفا کیا ، تو سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،سائل کا اپنی پہلی بیوی سے بھی  نکاح برقرار  رہے گا،لیکن سائل کا جعلی طلاق نامہ بنوانا اور اس کو دوسری لڑکی کے گھر  والوں کو دکھا کر شادی  کرنا شرعا دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، اور دھوکہ دینے پر  احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں؛ لہذا  آئندہ سائل کو  اس طرح کے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."

(حدیث أبي أمامة الباهلي، ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے: 

"لو ‌أراد ‌به ‌الخبر ‌عن ‌الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا".

(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:238، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة الخ".

(کتاب الطلاق،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3،ص:246،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100848

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں