بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق رجعی کے بعد عدت کے دوران رجوع نہ ہوتو اس کا حکم


سوال

میرے شوہر نے مجھے چھ اپریل کو لڑائی جھگڑے کے دوران ایک طلاق دی تھی، اس کے الفاظ یہ تھے  کہ" میں طلاق دیتا ہوں" پھر میری دو ماہ واریاں گزر  گئیں ،اس کی طرف سے کوئی رجوع کی بات نہیں آئی تھی،  پھر جب میری تیسری ماہواری چل رہی تھی تو میرے شوہر کی کال آئی اور اس نے کہا کہ میرے دل میں اللہ کا خوف ہے ,میں رجوع کرنا چاہتا ہوں یا اس نے یہ کہا کہ میں نے رجوع کرنا تھا، پھر تینوں ماہواریاں پوری ہو گئیں ۔

اب ہمارے لیے شرعی کیا حکم ہے؟  کیا رجوع کی گنجائش ہے یا دوبارہ نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں یا تیسری ماہ واری کے دوران  ان الفاظ سے رجوع ہو گیا تھا؟

اور دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے کچھ پیسے خرچے کے لیے بھیجے ہیں، کیونکہ ان کی ایک بیٹی میرے ساتھ رہتی ہے ،اب یہ پیسے میں استعمال کر سکتی ہوں یا نہیں ؟

جواب

1۔صورت ِ مسئولہ میں اگر آپ کے شوہر نے  ان الفاظ کے ساتھ ایک طلاق دی تھی کہ "میں طلاق دیتا ہوں"،تو آپ  پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی، تین ماہواریاں گزر جانے کی وجہ سے نکاح ختم ہوچکا ہے، اب  شوہر کے لیے رجوع کی گنجائش تو نہیں  ہے،تاہم اگر فریقین دوبارہ ساتھ  رہنا چاہیں تو  شرعی گواہوں کے سامنے نئے مہر کے ساتھ   تجدید نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، البتہ اس کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔

نیز سائلہ کے شوہر کا تیسری ماہواری کے دوران یہ الفاظ کہنا کہ" میں رجوع کرنا چاہتا ہوں یا  میں نے رجوع کرنا تھا"رجوع کی خواہش تو ظاہر کرنا ہے، البتہ ان الفاظ سے رجوع نہیں ہوا۔

2۔اگر شوہر نے خرچے کی یہ رقم بیٹی اور سائلہ دونوں کے لیے بھیجی ہے تو سائلہ بھی بقدر ضرورت اس رقم کو استعمال کرسکتی ہے ، اور اگر یہ رقم فقط بیٹی کے لیے بھیجی ہو تو پھر بیٹی پرہی خرچ کرنا لازم ہوگا،سائلہ  کے لیے اسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا."

(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق، ج:3، ص:180، ط: دار الكتب العلمية)

 فتاوی شامی میں ہے:

"(وينكح ‌مبانته ‌بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب ."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:409، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں