بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق کے بعد دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کا حکم


سوال

میں اخلاص احمد نے اپنی بیوی مہوش کو ان الفاظ سے طلاق دی کہ " میں آپ کو ایک طلاق رجعی دیتا ہوں، " جس کی آٹھ سال ہو گئے، مہربانی فرما کر مجھے بتائیں کہ کون سی طلاق واقع ہوئی ہے، اور اس کا کیا حکم ہے؟

وضاحت : عدت کے دوران رجوع نہیں ہوا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں   سائل نے جب  آٹھ سال پہلے اپنی بیوی کوان الفاظ سے ایک طلاق دی تھی کہ " میں آپ کو ایک طلاق رجعی دیتا ہوں، " تو ان الفاظ سے سائل  کی بیوی پر  ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھی،اس کےبعد  عدت کے دوران سائل نے رجوع نہیں کیا ، جس کی وجہ سے عدت ختم ہوتے ہی سائل کا  نکاح ٹوٹ گیا ہے، اب اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لیے آپس کی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہو گا، اور تجدیدِ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے سائل کے پاس بقیہ دو طلاق کا حق ہو گا۔اور اگر مطلقہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو بھی آزاد ہے۔

قرآن کریم  میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ." ﴿البقرة: ٢٢٩﴾

فتاوی شامی میں ہے:

"وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع."

(الدر المختار مع رد المحتار، 409/3، سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فان طلقھا ولم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت وهذا عندنا."

(کتاب الطلاق،فصل في بيان حكم الطلاق، ج: 3،ص: 180،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100765

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں